
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کے مطالبے کو مسترد کر دیا، جس میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کیا گیا تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران میں کسی بھی ہلاکت کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا جانا چاہیے۔
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصان کے لیے واشنگٹن سے تین سو بلین ڈالر کے معاوضے کے ساتھ ساتھ منجمد اثاثوں میں سے سو بلین ڈالر تک کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ان متعدد شرائط میں سے ایک ہے جو تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکان سے منسلک کی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران کا معاوضے کا مطالبہ ایک دلچسپ خیال ہے اور وہ مستقبل کے مذاکرات میں بھی ایسا ہی مطالبہ اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ایرانی نمائندے گزشتہ پانچ ماہ کے فوجی تنازع کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ جنگ اس لیے شروع ہوئی کہ ایران اپنے جوہری ہتھیار ترک کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ایران کے حملوں اور تنازعات میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے لیے بھی معاوضہ فراہم کیا جانا چاہیے، بشمول 2000 کے یو ایس ایس کول دھماکے اور دیگر واقعات"۔
انہوں نے مزید کہا، "میں ایران سے ان تمام لوگوں کے لیے معاوضے کا بھی مطالبہ کر رہا ہوں جو انھوں نے ہلاک یا شدید زخمی کیے ہیں۔" ٹرمپ نے ایران کے سابق فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کا بھی خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران ایسے تنازعات میں ملوث ہے جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔