
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کناڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے درمیان ایک اور بڑا اور علامتی قدم اٹھایا ہے۔ ٹرمپ نے 27 اگست کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کرکے ’لیک اونٹاریو‘ کا نام امریکی وفاقی استعمال کے لیے ’لیک امریکہ‘ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حالانکہ یہ حکم صرف امریکی وفاقی حکومت کے سرکاری استعمال پر نافذ ہوگا۔ کناڈا یا بین الاقوامی اداروں کو جھیل کا نام تبدیل کر کے ’لیک امریکہ‘ کہنے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں حکم پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’لیک اونٹاریو‘ کا نام فوری اثر سے ’لیک امریکہ‘ کر دیا جائے گا۔ ایگزیکٹیو آرڈر کے مطابق امریکی محکمہ داخلہ کو 30 دن کے اندر ’جی این آئی ایس‘ (جیوگرافک نیمس انفارمیشن سسٹم) میں نام تبدیل کرنے کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد امریکی وفاقی حکومت کے نقشوں، دستاویزات اور دیگر سرکاری مواصلات میں نئے نام کا استعمال کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ’گریٹ لیکس‘ کی حفاظت اور تحفظ میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جھیل کا سب سے گہرا حصہ امریکی علاقے میں آتا ہے اور امریکہ جھیل کے کُل آبی حجم کے بڑے حصے پر دعویٰ کرتا ہے۔
بہرحال، ٹرمپ کے فیصلہ کے چند ہی گھنٹے بعد کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اس قدم کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کناڈا اس جھیل کو ’لیک اونٹاریو‘ ہی کہتا رہے گا۔ کارنی نے یہ بھی کہا کہ اس جھیل کا نام دونوں ممالک کے وجود میں آنے سے بھی پہلے کا ہے اور اس کا تعلق مقامی باشندوں کی تاریخ سے ہے۔ کناڈا کا موقف واضح ہے کہ امریکہ کا ایگزیکٹیو آرڈر اس کے سرکاری استعمال پر نافذ نہیں ہوگا۔ اسی طرح بین الاقوامی ادارے بھی امریکی حکومت کے فیصلے کو ماننے کے پابند نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ لیک اونٹاریو شمالی امریکہ کی 5 بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے اور یہ امریکہ کی ریاست نیویارک اور کناڈا کے صوبے اونٹاریو کے درمیان واقع ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق جھیل کے تقریباً 47 فیصد حصے کا رقبہ امریکی سرحد کے اندر آتا ہے، جبکہ باقی حصہ کناڈا کی جانب ہے۔ امریکی انتظامیہ نے نام تبدیل کرنے کے حق میں جھیل کی گہرائی اور آبی حجم سے متعلق دلائل بھی دیے ہیں۔
کناڈا نے نام تبدیل کرنے کے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے جھیل کے تاریخی اور مقامی باشندوں سے تعلق کو بھی سامنے رکھا ہے۔ وزیر اعظم مارک کارنی کے مطابق ’اونٹاریو‘ نام کی جڑیں مقامی باشندوں کی زبان کے لفظ میں ہیں اور اس کا استعمال 400 سال سے بھی زیادہ عرصہ سے ہوتا آ رہا ہے۔ کناڈا کا کہنا ہے کہ یہ نام امریکہ اور کناڈا کی موجودہ سیاسی شکل سے بھی پہلے سے رائج ہے۔
لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور کناڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے تھے۔ اس کے بعد امریکہ نے تقریباً 20 ارب ڈالر کی کناڈائی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، جبکہ کناڈا نے بھی جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ طویل عرصہ سے کناڈا کی تجارتی پالیسیوں کو لے کر ناراضی ظاہر کرتے رہے ہیں۔ وہ کناڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی بات بھی کئی بار کہہ چکے ہیں، جسے کناڈائی لیڈران مسلسل مسترد کرتے رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔