دیگر ممالک

’یہ عدالت خاموش کھڑی نہیں رہ سکتی‘، ڈاٹابیس معاملہ پر امریکی جج نے ٹرمپ کو لگائی پھٹکار

وفاقی عدالت کے جج اسپارک سوکنانن نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ ’’وفاقی حکومت نے قصداً امریکی شہریوں کی رازداری کے حقوق کی اس طرح خلاف ورزی کی ہے جس سے ووٹ دینے جیسے اہم حق کو خطرہ ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ&nbsp;ٹرمپ </p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ

 

امریکہ کے ایک وفاقی جج نے ٹرمپ حکومت کے اُس ڈاٹا بیس کو منسوخ کر دیا ہے جس میں امریکی شہریوں کی خفیہ معلومات موجود تھیں۔ جج نے اسے غیر قانونی قرار دیا، کیونکہ کئی ریاستوں نے اس کا استعمال اہل شہریوں کو ووٹر فہرست سے خارج کرنے کے لیے کیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق امریکہ کی ایک وفاقی عدالت کے جج اسپارکل سوکنانن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’’وفاقی حکومت نے قصداً امریکی شہریوں کے حق رازداری کی اس انداز میں خلاف ورزی کی ہے جس سے ووٹ دینے جیسے اہم حق کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ جب ایسا ہو رہا ہو تو یہ عدالت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔‘‘

Published: undefined

سوکنانن نے کہا کہ وفاقی ایجنسیاں ایک ایسے صدارتی حکم نامے پر جلدی میں عمل کر رہی تھیں جو وفاقی انتخابی نظام میں تبدیلی لانے والا تھا۔ ان کے مطابق ایجنسیوں نے غیر منظم انداز میں لاکھوں امریکیوں کی ذاتی معلومات جمع کیں اور انہیں دوبارہ استعمال کیا، جن میں شہریت سے متعلق وہ اعداد و شمار بھی شامل تھے جن کے غیر معتبر ہونے کا علم انہیں پہلے ہی تھا۔ سوکنانن نے مزید کہا کہ ’’اس کے بعد ریاستوں نے اس ڈاٹابیس تک رسائی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ شراکت داری کی اور غلط معلومات کی بنیاد پر امریکی شہریوں کو ووٹر فہرست سے خارج کرنا شروع کر دیا۔‘‘ امریکی ضلعی جج کے مطابق یہ معاملہ 2 بنیادی حقوق کو اجاگر کرتا ہے جو امریکیوں کو حکومتی مداخلت سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، یعنی حقِ رازداری اور حقِ رائے دہی۔

Published: undefined

تازہ فیصلہ اُس مقدمے کے جواب میں سامنے آیا ہے جو ستمبر میں ووٹنگ کے حقوق اور رازداری کی وکالت کرنے والی کئی تنظیموں کے اتحاد نے دائر کیا تھا۔ اس اتحاد کی قیادت ’لیگ آف ویمن ووٹرز‘ کر رہی تھی۔ درخواست میں ’سسٹیمیٹک ایلین ویریفیکیشن فار اینٹائٹلمنٹس‘ نظام میں کی گئی تبدیلیوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ یہ نظام امریکی محکمۂ داخلی سیکورٹی کے زیر انتظام چلایا جاتا ہے اور شہریت و امیگریشن حیثیت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ مارچ 2025 میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں بڑی تبدیلیوں کے لیے ایک اہم صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹریشن کرانے والوں کے لیے شہریت کا دستاویزی ثبوت دینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ وفاقی انتخابات کے تقاضوں کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کر سکا ہے۔ صدارتی حکم نامہ 14248 کے تحت محکمۂ داخلی سیکورٹی اور سوشل سیکورٹی انتظامیہ سمیت بعض وفاقی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریاستی اور مقامی حکام کے لیے رجسٹرڈ ووٹروں یا ووٹ کے لیے رجسٹریشن کرانے والوں کی شہریت یا امیگریشن حیثیت کی تصدیق کا نظام تیار کریں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined