
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
ایران-امریکہ امن معاہدہ کے بعد آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے کی بحث تیز ہو گئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مطابق معاہدہ پر دستخط ہونے کے بعد اس کا عمل شروع ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور سے کھولنے میں کم از کم 30 دن لگ سکتے ہیں۔ اس کی اہم وجہ ہرمز کے سمندری علاقے میں بچھائی گئی مائنز (بارودی سرنگیں) ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ جنگ کے دوران ایران نے امریکی بحری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے پانی کے اندر بڑی تعداد میں مائنز بچھائی تھیں۔ اب انہیں ہٹانا ایران کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا۔
Published: undefined
34 کلومیٹر چوڑا آبنائے ہرمز خلیج فارس کا داخلی دروازہ مانا جاتا ہے۔ اسی راستے سے خلیج کے ممالک دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی کل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد اسی بحری راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ’ایکسیوس‘ نے امریکی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے نیچے 100 سے زائد مائنز بچھی ہیں۔ ایک مائنز جو کہ ماہم (3) ہے میں 340 کلوگرام بارود ہوتا ہے، یعنی 34000 کلوگرام بارود ہرمز میں پانی کے نیچے ایران نے بچھا رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک میٹر پر ایک کلوگرام بارود سیٹ کیا گیا ہے۔ حالانکہ ایران نے آفیشیل طور پر اس حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ امریکہ سے معاہدے کے بعد اسے کیسے ہٹایا جائے گا، اس بارے میں بھی ایران نے کچھ نہیں کہا ہے۔ حالانکہ مانا جا رہا ہے کہ ایران اس کام میں فرانس جیسے ممالک کی مدد لے سکتا ہے۔ حال ہی میں فرانس اور برطانیہ نے بارود ہٹانے والے اپنے جہاز قبرص کی طرف بھیجے تھے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کے بعد فرانس ہرمز کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے قبل پینٹاگن کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں مائنز ہٹانے میں 6 مہینے کا وقت لگ سکتا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں آبنائے ہرمز پر توجہ مرکوز ہے۔ امریکہ کے نائب صدر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ جے ڈی وینس کے مطابق معاہدہ پر دستخط ہونے کے فوراً بعد ایران نے ہرمز کو کھولنے کی بات کہی ہے۔ وینس کا کہنا ہے کہ ایران اس روٹ سے آمد و رفت کے لیے کوئی پیسہ نہیں لے گا۔ دوسری جانب ایران کی کوشش اس روٹ سے ماحولیاتی ٹیکس وصول کرنے کی ہے۔ اس کے لیے ایران اپنے پڑوسی ملک عمان کے ساتھ مل کر ایک تجویز تیار کر رہا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined