
فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس
بنگلہ دیش کے پولیس چیف نے کل یعنی پیر کے روز کہا کہ وہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اور حکومت کی اجازت کے ساتھ ضرورت پڑنے پر کراس فائر (انکاؤنٹر) کا سہارا لینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) محمد علی حسین فقیر، جو کمیونٹی بینک بنگلہ دیش کے چیئرمین بھی ہیں، نے یہ بیان ڈھاکہ میں بینک کی اسلامی بینکاری خدمات کے آغاز کے موقع پر منعقد ایک تقریب میں دیا۔
بنگلہ دیش کے پولیس چیف نے کہا کہ اگر حکومت اجازت دیتی ہے تو ہم جہاں ضروری ہو گاکراس فائر کا سہارا لیں گے۔ تاہم، فقیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کام کرنے دیں۔ انہوں نے کہا، "جب پولیس لاٹھی استعمال کرتی ہے، تو انہیں 'فاشسٹ' کہا جاتا ہے، اور جب وہ خاموش رہتی ہے، تو اسے 'کمزور' کہا جاتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "ایسے حالات میں، پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔"
بنگلہ دیش میں 'کراس فائر' کا تعلق ماورائے عدالت قتل سے ہے۔ پولیس، اور حال ہی میں تبدیل شدہ ریپڈ ایکشن بٹالین(آر اے بی)، ماورائے عدالت قتل یا غیر قانونی قتل کو چھپانے کے لیے اکثر "کراس فائر" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یہ پولیس افسران عام طور پر دعویٰ کرتے ہیں کہ متاثرہ شخص حادثاتی طور پر کراس فائر میں پھنس گیا تھا، یا مجرموں نے گشتی ٹیم پر فائرنگ کی تھی۔ یا، پولیس کا کہنا ہے کہ "کراس فائر" میں مارے جانے والے شخص کو اس کے مسلح ساتھی بچا رہے تھے۔
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کی حکومت کے دوران، پولیس اورریپڈ ایکشن بٹالین کو انسانی حقوق کے گروپوں اور سیاسی مخالفین کی طرف سے "کراس فائر" کا لیبل لگانے والی کارروائیوں پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش میں پہلا سنسنی خیز "ماورائے عدالت قتل" 1975 میں ہوا، جب ایک انتہائی بائیں بازو کے ماؤ نواز رہنما سراج سکدر کی پولیس حراست میں موت ہو گئی۔ یہ واقعہ ایسے ہی حالات میں پیش آیا جو بعد میں "کراس فائر" کے نام سے مشہور ہوئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔