
وینزویلا پر امریکی حملہ کا منظر، تصویر سوشل میڈیا
امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر ایک نئی کشیدگی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ وینزویلا کی راجدھانی کراکس میں بڑے ملٹری بیس پر یہ حملہ ہوا ہے۔ ہفتہ کی علی الصبح تقریباً 2 بجے وینزویلا کی راجدھانی کراکس میں کم از کم 7 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ شہر میں دھوئیں کے غبار اٹھتے دیکھے گئے، جس کے بعد علاقہ میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ ’سکائی نیوز عربیہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے وزیر دفاع کے گھر اور ملٹری بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
Published: undefined
سی این این کی ایک ٹیم نے ہفتہ کی شب وینزویلا کی راجدھانی کراکس میں کئی دھماکے ہوتے ہوئے دیکھے۔ پہلا دھماکہ قومی وقت کے مطابق شب تقریباً 1.50 بجے ہوا۔ سی این این کی نامہ نگار اوسماری ہرنانڈیز نے کہا کہ ایک دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ میری کھڑکی تک ہل گئی۔ دھماکوں کے بعد کراکس کے کئی علاقوں میں بجلی چلی گئی۔ علاقے میں کئی طیارے بھی اڑتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ وینزویلا حکومت نے اس حادثہ پر فوراً کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ دھماکوں کی آواز سنتے ہی شہر کے کئی علاقوں میں لوگ اپنے گھروں سے باہر سڑکوں پر آ گئے۔ کراکس کے الگ الگ حصوں سے دور دور تک لوگوں کی موجودگی دیکھی گئی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اس وقت امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی متنبہ کر چکے تھے کہ وینزویلا کے خلاف زمینی حملے بھی ہو سکتے ہیں، تاکہ اس قدم سے مادورو کو اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ میں ڈالا جا سکے اور اس کے لیے انھوں نے سخت پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ ہفتہ کے روز وینزویلا پر ہوئے حملہ سے قبل امریکی صدر نے کئی بار متنبہ کیا کہ امریکہ کسی بھی حال میں وینزویلا میں مبینہ ڈرگ اسمگلنگ نیٹورک کے خلاف نئی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر ماہ میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے سی آئی اے کو وینزویلا کے اندر کام کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاکہ وہاں سے ہونے والی ڈرگ اسمگلنگ اور مہاجرین کی آمد و رفت پر روک لگائی جا سکے۔ حالانکہ وینزویلا کے صدر مادورو نے کسی بھی طرح کے جرائم سے متعلق سرگرمیوں کو پوری طرح سے خارج کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ انھیں اقتدار سے ہٹا کر وینزویلا کے بڑے تیل ذخیرہ اور معدنیاتی وسائل تک رسائی چاہتا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ تازہ حملہ سے قبل ہی امریکی فوج نے کیریبیائی سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں کئی کشتیوں پر بھی حملے کیے، جن پر ڈرگ اسمگلنگ کا الزام تھا۔ امریکی فوج کی جانکاری کے مطابق اس سمندری مہم میں اب تک کم از کم 30 حملوں میں 107 لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اب تازہ حملہ کے بعد سی این این نے رد عمل کے لیے وہائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined