
وزیر خارجہ ایس جے شنکر، تصویر/آئی اے این ایس
ہندوستان اور کئی ترقی پذیر ممالک نے اقوام متحدہ میں کہا کہ جنگوں سے ہونے والا اقتصادی نقصانات صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں رہتے۔ اس کی وجہ سے ان ممالک میں بھی خوراک اور توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور تجارت متاثر ہو رہی ہے، جن کا ان تنازعات پر بہت کم اثر ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ جنگ سے کافی دور موجود ممالک کو بھی خوراک، ایندھن، کھاد، فنانس اور تجارت کی سپلائی میں پابندی کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ جو ممالک ان حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اکثر ان کی بات سب سے کم سنی جاتی ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ امن برقرار رکھنے میں ناکامی سے سلامتی کمزور ہو رہی ہے، ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے اور اب تک حاصل کی گئی پیش رفت پر بھی خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کا اثر خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر زیادہ پڑ رہا ہے۔
ہندوستان نے یوکرین جنگ اور خلیجی خطے میں جاری تنازعہ پر تشویش ظاہر کی۔ اس نے تمام فریقین سے تحمل برتنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی ہندوستان نے توانائی اور تجارت کی آمد و رفت بلا رکاوٹ جاری رکھنے اور جہازوں و ملاحوں کی حفاظت یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کئی دنوں تک جاری جنرل ڈبیٹ میں کیریبین، بحر ہند کے خطے اور افریقہ کے کئی رہنماؤں نے بھی جنگوں کے اسی معاشی اثرات پر تشویش ظاہر کی۔
کئی لیڈران نے کہا کہ جنگوں کے اقتصادی نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کسی تنازعہ کو صرف ایک خطے کا مسئلہ سمجھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ نقل و حمل، توانائی اور انشورنس کی بڑھتی ہوئی لاگت سپلائی چین کے ذریعے آگے بڑھتی ہے اور آخرکار ہزاروں کلومیٹر دور رہنے والے عام خاندانوں کی جیب تک اس کا اثر پہنچتا ہے۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر خام تیل درآمد کرتا ہے اور توانائی، کھاد اور دوسری ضروری اشیا کے لیے بین الاقوامی تجارتی راستوں پر منحصر ہے۔ اس لیے دنیا میں ایندھن اور مال برداری کی قیمتوں میں تبدیلی کا اثر ہندوستان میں نقل و حمل، زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی لاگت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی دور دراز حصے میں ہونے والی جنگ بھی ہندوستانی خاندانوں کے لیے براہ راست اقتصادی تشویش کا مسئلہ بن سکتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔