
مال بردار جہاز میں آگ کی علامتی تصویر، سوشل میڈیا
ایرانی مال بردار جہاز پر آبنائے ہرمز کے جزیرہ قشم کے قریب حملہ کیا گیا، جس کے بعد دوبارہ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تہران کا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام کی متنازعہ کوششوں سے متعلق پڑوسی ممالک کو آگاہ کرنے کا منصوبہ بھی ملتوی کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ہے اور 4 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس حادثے کے بعد ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی جانب توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ کیونکہ گزشتہ ہفتے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے بحیرۂ احمر میں آبنائے باب المندب میں واقع ایک جزیرے پر قبضہ کرنے کے بعد اس علاقے میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بڑھ گیا تھا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے قشم کے گورنر کے حوالے سے کہا ہے کہ اتوار کے روز ہوئے حملے کے لیے ایک دہشت گرد دشمن ذمہ دار ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے فی الحال کوئی بیان نہیں آیا ہے۔
امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ایرانی پرچم والے بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے، اور اسے اپنے جنگی جہازوں پر فائر کیے گئے ایرانی بیلسٹک میزائلوں سے ایک نئے خطرے کا سامنا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ہمارے لوگوں کو ڈرایا اور مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس سے اختلاف کیا۔ ٹرمپ آئرلینڈ کے شہر ڈنبیگ میں اپنے گولف کورس میں تھے، جہاں وہ ایک ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ بعد میں ایک رپورٹر نے ڈونالڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا امریکہ نے اتوار کی صبح آبنائے ہرمز میں ایران کے مال بردار جہاز پر حملہ کیا تھا، تو ٹرمپ نے کہا کہ میں اس حوالے سے کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ اس کے بعد وہ واشنگٹن واپس جانے کے لیے ایئر فورس ون میں سوار ہو گئے۔
ایران نے کہا تھا کہ خطے کے ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کے روز عمان میں ملاقات کریں گے، تاکہ وہاں جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایران اور عمان (جو آبنائے ہرمز کے دوسری طرف ہے) کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔ لیکن عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے اتوار دیر رات ’ایکس‘ پر کہا کہ اتفاق رائے کے لیے اجلاس ملتوی کیا گیا ہے۔ البوسعیدی نے کہا کہ ہم ایسی بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے پابند ہیں، جو ہمارے خطے میں استحکام اور طویل مدتی تعاون کی حمایت کرے۔ ’یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز مانیٹر‘ نے اتوار کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے وقت ایک جہاز پر پروجیکٹائل سے حملہ ہوا، حالانکہ یہ صاف نہیں تھا کہ یہ اسی حملے کے بارے میں تھا، جس کی اطلاع ایران نے قشم کے قریب دی تھی۔ مانیٹر نے کہا کہ جہاز میں آگ لگ گئی تھی اور مقامی افسران جہاز پر موجود افراد کو باہر نکال رہے تھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ کافی مقدار میں تیل باہر نکل رہا ہے، کیوں کہ اس کی فوج عمان کے ساحل کے ساتھ جہازوں کو راستہ دکھانے میں مدد کر رہی ہے، جبکہ حملے کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
عمان میں ہونے والے اجلاس کے ملتوی ہونے سے قبل صرف عراق نے عوامی طور پر شرکت کے اپنے منصوبے کی تصدیق کی تھی۔ بحرین نے کہا تھا کہ وہ شامل نہیں ہوگا، کیوں کہ تہران کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے جہاز گزرنے کے لیے ٹیکس لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں آنے والا ٹریفک ایرانی آبی خطے سے گزرے گا، جب باہر جانے والا راستہ کچھ حد تک ایرانی آبی خطے اور کچھ حد تک عمان کے آبی خطے سے ہوکر گزرے گا۔ خطے میں مجوزہ اجلاس کو لے کر کچھ امیدیں تھیں کہ خلیجی ممالک اس کا استعمال اس جنگ پر اجتماعی رد عمل دینے کے لیے کر سکتے ہیں، جسے شروع کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ مہینوں سے انہیں ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے حوالے سے ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ ان زمینوں پر موجود امریکی فوجی اثاثے کو نشانہ بناتے ہیں۔
اتوار کے روز ایران کے صدر نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں بڑے ترقی پذیر ممالک کے عالمی سربراہی اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر عہدیدار کے ساتھ اچھی بات چیت کی۔ ایران نے امریکہ کے قریبی اتحادی خلیجی ممالک پر ہزاروں میزائلیں اور ڈرون داغے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ نئی دہلی میں برکس اجلاس میں شرکت کے دوران ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید سے ملاقات کی۔ پزشکیان نے کہا کہ ہم نے تشویش کے مسائل پر گفتگو کی، تاکہ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل کی جانب دیکھا جا سکے اور یہ بھی کہ ہم مستقبل کا فیصلہ کس طرح متحد ہو کر کر سکتے ہیں۔ ان کے خیالات ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیے گئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔