
ڈونالڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)
امریکہ کے سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں نیا ’بال روم‘ بنانے کے عمل کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کو ٹرمپ کے لیے ایک اہم فتح قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ کافی تنازعات میں رہا ہے۔ 5-4 کے اکثریتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کے ان احکامات پر روک لگا دی، جن کی وجہ سے منصوبے کے زمین سے اوپر تعمیر ہونے والے حصے کا کام رک سکتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف جسٹس جان رابرٹس نے عدالت کے 3 لبرل ججوں کے ساتھ اختلاف رائے کا اظہار کیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب 7 اگست کو واشنگٹن کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے کہا تھا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک وسیع ’بال روم‘ تعمیر کرنے کا کام قانونی اختیار کے بغیر کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں ’نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن‘ نامی تنظیم نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر صدر کو اس تعمیراتی کام کو آگے بڑھانے کا اختیار نہیں ہے۔
حالانکہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں منصوبے کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت یہ ثابت کر سکتی ہے کہ اس تنظیم کو وفاقی عدالت میں اس منصوبے کو چیلنج کرنے کا قانونی جواز حاصل نہیں ہے۔ ساتھ ہی دیگر قانونی پہلو بھی حکومت کے حق میں نظر آتے ہیں۔ عدالت کے مطابق کسی بھی تنظیم یا فرد کو وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسے واقعی کوئی قانونی نقصان پہنچا ہے یا وہ براہ راست متاثر ہوا ہے۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس ’بال روم‘ منصوبے کا اعلان جولائی 2025 کے آخر میں کیا تھا۔ اس کے لیے اکتوبر 2025 میں ایسٹ ونگ کے ایک حصے کو ہٹانے کا کام شروع کیا گیا تھا، تاکہ نئی عمارت کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔ تقریباً 90 ہزار مربع فٹ پر تعمیر ہونے والا یہ بال روم ایک وقت میں تقریباً ایک ہزار مہمانوں کو جگہ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں عدالت میں دائر دستاویزات میں ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا کہ تعمیراتی کام تقریباً 65 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبے پر تقریباً 250 ملازمین کی ٹیم کام کر رہی ہے، جو ہفتے کے ساتوں دن تقریباً 20 گھنٹے تک تعمیراتی کام میں مصروف رہتی ہے۔ ’این بی سی‘ نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق منصوبے کی سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لیے سیکریٹ سروس کے فنڈز پہلے ہی مختص کیے جا چکے ہیں۔ اس سے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے پر شبہ پیدا ہوتا ہے کہ منصوبے کا خرچ مکمل طور پر ذاتی عطیات سے پورا کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔