دیگر ممالک

سعودی عرب نے ’ورک ویزا‘ کے اصول میں کی تبدیلی، ہندوستانی کمپنیوں اور ملازمین پر بھی پڑے گا اثر

ویزا کے نئے نظام کے سبب ہندوستانی کمپنیوں اور ہندوستانی ملازمین پر اثر پڑ سکتا ہے۔ سعودی عرب میں غیر ملکی ملازمین میں بڑی تعداد ہندوستانیوں کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، تصویر آئی اے این ایس

 

سعودی عرب میں ورک ویزا کے حوالے سے اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ ملک کی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کے ’قویٰ‘ پلیٹ فارم نے بتایا کہ سعودی عرب نے ورک پرمٹ میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے نئی شروع ہونے والی کمپنیوں کے لیے فوری ملنے والے ورک ویزا کی زیادہ سے زیادہ تعداد گھٹا کر 5 کر دی ہے۔ یہ قدم بھرتی کے عمل کو منظم کرنے اور لیبر مارکیٹ کے قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

Published: undefined

’قویٰ‘ نے بتایا کہ جو کمپنیاں 2 سال سے کم عرصے سے چل رہی ہیں، وہ زیادہ سے زیادہ 5 فوری ویزا کے لیے ہی اہل ہوں گی۔ جبکہ 2 سال سے زیادہ پرانی کمپنیوں کے لیے یہ حد 50 ویزا تک ہو سکتی ہے، خواہ وہ ایک ہی بار میں درخواست دیں یا ایک ہی ہفتے میں کئی بار درخواست کریں۔ اس نے مزید بتایا کہ ’اسٹیبلشمنٹ پروگرام‘ میں شامل اور ضروری شرائط پوری کرنے والی کمپنیوں کو شروعات میں صرف 2 ہی ویزے ملیں گے۔ ’سعودی کاری‘ (سعودی شہریوں کو روزگار میں ترجیح دینے کی پالیسی) کی شرح بڑھانے کی صورت میں انہیں مزید ویزے مل سکیں گے۔

Published: undefined

’قویٰ‘ نے بیرون ملک سے غیر سعودی ملازمین کی بھرتی کے حوالے سے 10 طرح کی شرائط بھی تیار کی ہیں۔ ان 10 شرائط میں شامل ہے کہ بزنس کا اسٹیٹس ’ایکٹو‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ملازمین کے پاس جائز ورک پرمٹ اور جائز کمرشیل رجسٹریشن بھی ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ’میڈیم گرین‘ کیٹیگری یا اس سے اوپر کی کیٹیگری میں رہ کر سعودیائزیشن کی شرائط پوری کرنی ہوں گی۔ ساتھ ہی ’ویج پروٹیکشن سسٹم‘ (اجرت کے تحفظ کے نظام) پر عمل کرنا، اور ’ابشر‘ یا ’مقیم‘ جیسے سرکاری پلیٹ فارمز پر کافی بیلنس برقرار رکھنا بھی لازمی ہوگا۔

Published: undefined

اس کے علاوہ کچھ دیگر شرائط بھی رکھی گئی ہیں، 10 یا اس سے زیادہ ملازمین والی کمپنیوں کے لیے سالانہ ’سیلف اسیسمنٹ‘ کرنے کے قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔ ’قویٰ‘ پلیٹ فارم پر ملازمین کے کام کرنے کی جگہ کا رجسٹریشن کرانا ہوگا، جبکہ ملازمین کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے۔ اسی طرح ویزا کی قسم کی بنیاد پر بھرتی کوٹے کا کافی بیلنس برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

Published: undefined

کہا جا رہا ہے کہ اس نئے نظام کے آنے سے ہندوستانی کمپنیوں اور ہندوستانی ملازمین پر اثر پڑ سکتا ہے۔ سعودی عرب میں غیر ملکی ملازمین میں بڑی تعداد ہندوستانیوں کی ہے۔ اب نئی کمپنیوں کے لیے فوری جاری ہونے والے ویزوں کی تعداد محدود کر دیے جانے سے نئی کمپنیوں یا اسٹارٹ اپس میں شامل ہونے کے خواہشمند پروفیشنلز کی بھرتی کا عمل سست ہو جائے گا۔ یہی نہیں پروفیشنلز اب ان نئی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کے بجائے قائم شدہ یعنی 2 سال سے زیادہ پرانی کمپنیوں کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ پرانی کمپنیوں کے پاس ویزا کوٹہ زیادہ ہوتا ہے اور وہ 50 تک ویزوں کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined