دیگر ممالک

روس-یوکرین جنگ: زیلنسکی جنگ بندی کے لیے رضامند، لیکن کم از کم 75 فیصد اراضی کی رکھی شرط

روس نے حالیہ حملوں میں یوکرین کی تقریباً 15 انرجی فیسلٹی کو تباہ کر دیا ہے۔ ان مراکز سے یوکرین کے مختلف علاقوں میں بجلی سپلائی کی جاتی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>ولادیمیر زیلنسکی/ولادیمیر پوتن</p></div>

ولادیمیر زیلنسکی/ولادیمیر پوتن

 

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ روس-یوکرین جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور جنگ کی موجودہ فرنٹ لائنس کو برقرار رکھنے کے لیے راضی ہیں۔ یعنی روس نے یوکرین کے جتنے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے، زیلنسکی اس حصے کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ حالانکہ روس ایک بڑی حکمت عملی کے تحت یوکرین پر حملے کی تیاری میں مصروف ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جب زیلنسکی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایسے امن معاہدے کو قبول کریں گے، جس کے تحت موجودہ صورتحال کو منجمد کر دیا جائے اور یوکرین کے پاس اس کا 75 فیصد یا اس سے زیادہ علاقہ برقرار رہے؟ تو زیلنسکی نے جواب دیا ’ہاں۔‘ یوکرین کے صدر نے کہا کہ فی الحال ہمیں صورتحال کو منجمد کرنے کی ضرورت ہے اور میرا خیال ہے کہ اس جنگ کو ختم کرنے کا یہی حقیقی راستہ ہے۔ ہم اسے جنگ بندی کہتے ہیں۔

زیلنسکی نے امید ظاہر کی تھی کہ روس میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، اور انہوں نے کیف، واشنگٹن اور ماسکو لیڈران کے درمیان بات چیت کی حمایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کے روز ناروے کے اوسلو میں وٹکوف کے ساتھ ان کی بات چیت بامعنی رہی اور یوکرین سفارت کاری کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب روس یوکرین کے ساتھ طویل جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اس نے یوکرین پر حملے کے لیے 700 بیلسٹک میزائل اور 6000 سے زیادہ اٹیک ڈرون جمع کیے ہیں۔ ماسکو ہر ماہ تقریباً 10000 ڈرون تیار کر رہا ہے اور اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کر رہا ہے، تاکہ وہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو شکست دے سکے۔

گزشتہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران یوکرین کے دنیپروپیٹرووسک پر روس کے مسلسل شدید فضائی حملے جاری ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے مختلف علاقوں میں خطرناک آگ لگ گئی اور جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل بھی روسی گائیڈیڈ فضائی بموں سے حملے کیے گئے تھے، جن میں گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔ روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں ڈوبنو کے ایپیسینٹر شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں یہ عمارت پوری طرح منہدم ہو گئی اور وہاں آگ لگ گئی۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ڈوبنو میں یوکرین کے ایک لاجسٹکس سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یوکرین کی فوج نے روس کے قبضے والے ڈونیتسک میں انرجی فیسلٹی پر حملہ کیا ہے۔ روس نے حالیہ حملوں میں یوکرین کی تقریباً 15 انرجی فیسلٹی کو تباہ کر دیا ہے۔ ان مراکز سے یوکرین کے مختلف علاقوں میں بجلی سپلائی کی جاتی تھی۔ وہیں یوکرین بھی حملے کر رہا ہے، اور اس نے روس کے تامبوف میں نکولسکوئے آئل پمپنگ اسٹیشن پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ پمپنگ اسٹیشن پر کئی گھنٹوں تک ڈرون حملے ہوتے رہے۔ یہ اسٹیشن اہم تیل پائپ لائن سسٹم کا حصہ ہے، اور تیل اور ہلکی پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل میں شامل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔