دیگر ممالک

شیخ حسینہ کی حوالگی پر ہندوستان کا ردعمل، 'کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں'

شیخ حسینہ کی حوالگی پر بنگلہ دیش میں ہندوستان کے ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے کہا کہ یہ معاملہ قانونی کارروائی کے تحت ہے اور کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی جا سکتی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

شیخ حسینہ کی حوالگی کے حوالے سے ہندوستان نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش واپسی کے لیے کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی جا سکتی۔ بنگلہ دیش کی جانب سے بھجوائی گئی حوالگی کی درخواست پر قانونی عمل کے تحت غور کیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہندوستان کے ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے ہفتہ کو کہا کہ یہ معاملہ طے شدہ قانونی عمل کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور یہ کہنا ممکن نہیں کہ حسینہ کو کب بنگلہ دیش واپس بھیجا جائے گا۔

ترویدی نے یہ بھی کہا کہ جب شیخ حسینہ اگست 2024 میں ڈھاکہ سے ہندوستان آئیں تو ہندوستان کے پاس انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس وقت حسینہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں اور ان کی حکومت ایک زبردست حکومت مخالف تحریک کے درمیان گر گئی تھی۔

ڈھاکہ میں ایک پرائیویٹ تھنک ٹینک کے زیر اہتمام ایک مباحثے میں ترویدی سے بنگلہ دیش کی طرف سے حسینہ کی حوالگی کے بار بار مطالبات کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ کی واپسی کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا  سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ بنگلہ دیش کی حوالگی کی درخواست پر ایک ایسے عمل کے تحت غور کیا جا رہا ہے جو قانونی اور قائم کردہ قوانین کے مطابق ہے۔

ترویدی نے یہ بھی کہا کہ شیخ حسینہ کو ہندوستانی فضائیہ یا ہندوستانی فوج ہندوستان نہیں لائی تھی۔ ان کے مطابق حسینہ 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش ایئر فورس کے طیارے میں ہندوستان  پہنچی تھیں۔ اس وقت مظاہرین ان کی سرکاری رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہے تھے۔

ترویدی نے کہا کہ اس وقت شیخ حسینہ اب بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان  کے پاس انہیں قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ہندوستان  کو اس وقت کی صورتحال کو قبول کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اگر ہندوستان  انہیں اترنے کی اجازت نہ دیتا تو صورتحال کیا ہوتی۔ ترویدی نے بنگلہ دیش میں اس وقت کی صورتحال کو "افسوسناک حالات" قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسی صورت حال دوبارہ نہیں ہونی چاہیے۔

حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد، محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت نے 8 اگست 2024 کو اقتدار سنبھالا۔ یہ حکومت اگلے 18 ماہ تک بنگلہ دیش میں برسراقتدار رہی۔ اس عرصے کے دوران ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات خاصے بگڑ گئے۔ حسینہ پر خصوصی ٹریبونل نے غیر حاضری میں مقدمہ چلایا اور سزائے موت سنائی۔ عبوری حکومت نے ان کی عوامی لیگ پارٹی کو بھی تحلیل کر دیا اور ایک سفارتی نوٹ کے ذریعے حسینہ کی ہندوستان  سے حوالگی کا مطالبہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔