دیگر ممالک

نیپال میں 5.3 شدت کا زلزلہ

بدھ کو تبت اور نیپال میں 5.3 شدت کا زلزلہ آیا جس کی گہرائی 35 کلومیٹر تھی۔ حالیہ شدید سیلاب کے بعد آنے والے ان جھٹکوں نے پہاڑی علاقے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

نیپال کے شہر مستانگ میں بدھ کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے آس پاس کے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں کو خالی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ حالیہ شدید سیلاب کے بعد آنے والے زلزلے نے پہاڑی علاقے میں تشویش پیدا کردی ہے۔ حکام نے نگرانی بڑھا دی ہے اور کسی بھی آفت سے نمٹنے کے لیے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

زلزلے کی نگرانی کرنے والے مرکز کے سربراہ کے مطابق بدھ کی رات 9 بج کر 53 منٹ پر نیپال کے مستانگ ضلع میں 5.3 شدت کا ایک زور دار زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کا مرکز لومانتھانگ کے علاقے میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے تبت کے ساتھ ساتھ نیپال کے مختلف حصوں بشمول مستانگ، باگلونگ اور دھولاگیری علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ تاہم زلزلے سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات ابھی دستیاب نہیں ہیں۔

یورپی-میڈیٹیرینین سیسمولوجیکل سنٹر(ای ایم ایس سی )کے مطابق زلزلہ زمین کی سطح سے تقریباً 35 کلومیٹر کی گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا۔ تبت کے ساتھ ساتھ نیپال کے مستانگ، باگلونگ اور دھولاگیری علاقوں اور ملک کے کئی دیگر حصوں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

قبل ازیں، ای ایم ایس سی نے اطلاع دی کہ بدھ کو تبت میں 5.3 کی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ زلزلہ 35 کلومیٹر (21.75 میل) کی گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا۔ جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔

یہ تازہ ترین زلزلہ نیپال تبت کے علاقوں میں شدید سیلاب کی تباہ کاریوں کے چند دن بعد آیا ہے۔ اس قدرتی رجحان نے اس پہاڑی ہمالیائی علاقے کے حالات کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ مشکل جغرافیائی حالات کی وجہ سے یہ علاقہ قدرتی آفات کا شکار رہتا ہے۔ قدرتی آفات کے خطرے اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے پیش نظر متعلقہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی ممکنہ خطرے کے بروقت جواب کو یقینی بنانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں نگرانی جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔