دیگر ممالک

نیپال میں ’جین-زی‘ تحریک کے بعد پہلا عام انتخاب آج، 1.90 کروڑ ووٹرس منتخب کریں گے نئی حکومت، 3 لاکھ سیکورٹی اہلکار تعینات

نیپال میں گزشتہ سال ستمبر میں نوجوانوں کے پرتشدد احتجاج اور کے پی شرما اولی کی حکومت کے خاتمے کے بعد آج 5 مارچ کو عام انتخاب ہو رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

نیپال کے لوگ آج (5 مارچ) کو اپنی نئی حکومت کا انتخاب کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے انتخاب کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور 3 لاکھ سے زائد سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ملک کے کارگزار الیکشن کمشنر رام پرساد بھنڈاری نے بدھ کی شام بتایا کہ انتخاب کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ پولنگ صبح 7 بجے شروع ہوگی اور شام 5 بجے ختم ہوگی۔ بیلٹ بکس جمع کرنے کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی جائے گی۔ واضح رہے کہ نیپال میں گزشتہ سال ستمبر میں نوجوانوں کے پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کے پی شرما اولی کی حکومت گرنے کے بعد یہ عام انتخاب ہو رہے ہیں۔

Published: undefined

نیپال میں تقریباً 3 کروڑ کی آبادی میں سے 1.90 کروڑ ووٹرس نئی حکومت کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ 275 اراکین پر مشتمل نیپال کے ایوان نمائندگان یعنی پارلیمنٹ میں 165 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 165 اراکین کو ووٹرس براہ راست منتخب کریں گے، جبکہ بقیہ 110 نشستیں سیاسی جماعتوں کو ان کے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے ملیں گی۔

Published: undefined

نیپال میں وزیر اعظم کے لیے اہم دعویداروں میں بالیندر شاہ، کے پی شرما اولی، گگن تھاپا اور پشپا کمل دہل شامل ہیں۔ ریپر سے سیاست داں بننے والے کاٹھمنڈو کے سابق میئر 35 سالہ بالیندر شاہ سنٹرسٹ ’راشٹریہ سوتنتر پارٹی‘ کے رہنما ہیں۔ 4 بار وزیراعظم رہنے والے کے پی اولی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ لیننسٹ) سے ہیں۔ انہیں گزشتہ سال مظاہروں کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

Published: undefined

3 بار وزیر اعظم رہنے والے 71 سالہ پشپا کمل دہل نیپالی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ دہل 2006 میں مرکزی دھارے کی سیاست میں آنے سے قبل ایک دہائی تک ماؤ نواز بغاوت کی قیادت کر چکے ہیں اور ان کا شمار ملک کے بڑے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ نیپال کے انتخاب میں سنٹرسٹ ’نیپال کانگریس پارٹی‘ کے گگن تھاپا بھی بڑے ناموں میں شامل ہیں۔ 49 سالہ تھاپا مضبوطی سے انتخابی مہم میں سرگرم رہے ہیں۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ نیپال میں گزشتہ کئی سالوں سے 3 جماعتوں کے غلبے والی مخلوط حکومتوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ نیپالی سیاست پر کمیونسٹ پارٹی آف نیپال یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ (سی پی این یو ایم ایل) نیپالی کمیونسٹ پارٹی(سی پی این) (ماؤسٹ سینٹر) اور سنٹرسٹ نیپالی کانگریس کا غلبہ رہا ہے۔ تاہم اس انتخاب میں کاٹھمنڈو کے سابق میئر بالین شاہ ایک بڑی قوت بن کر ابھرے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined