دیگر ممالک

گزشتہ ایک ماہ میں حوثی باغیوں کے ساتھ تصادم میں 500 سے زائد یمنی فوجی جاں بحق، تقریباً 1500 زخمی

سرکاری فوج کے مطابق 3 ستمبر کو شروع ہوئے حوثی حملے نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر حالات تیزی سے بدل دیے۔ اس دوران حوثی باغیوں نے حدیدہ اور تعز صوبے کے کئی سرکاری کنٹرول والے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

یمن کی سرکاری فوج نے اتوار (13 ستمبر) کو دعویٰ کیا کہ مغربی ساحلی علاقے میں حوثی باغیوں کے ساتھ ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی میں اس کے 500 سے زائد فوجی ہلاک اور تقریباً 1500 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ تصادم اس وقت ہوا جب حوثیوں نے اسٹریٹجک طور پر اہم آبنائے باب المندب کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی۔ سرکاری فوج کی نیشنل ریزسٹنس فورسز نے الجمہوریہ ٹی وی پر جاری بیان میں کہا کہ 9 اگست سے 10 ستمبر کے درمیان یہ ہلاکتیں ہوئیں۔ فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس دوران 1000 سے زائد حوثی لڑاکے مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بیان کے مطابق تصادم کی شروعات حوثی باغیوں کے ذریعہ میزائل، ڈرون اور دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی کشتیوں سے کیے گئے حملوں سے ہوئی۔ اس کے بعد لڑائی حدیدہ صوبہ کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے کے جنوبی حصے حیس سے بڑھ کر پڑوسی جنوب مغربی تعز صوبہ کے کئی علاقوں تک پھیل گئی۔ سرکاری فوج کے مطابق 3 ستمبر کو شروع ہوئے حوثی حملے نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر حالات تیزی سے بدل دیے۔ اس دوران حوثی باغیوں نے حدیدہ اور تعز صوبے کے کئی سرکاری کنٹرول والے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

واضح رہے کہ حوثیوں نے جمعرات کو اسٹریٹجک طور پر اہم بندرگاہی شہر موخا پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد جمعہ کو وہ جنوب کی جانب باب المندب علاقے میں آگے بڑھے اور آبنائے کے درمیان واقع مایون جزیرے پر بھی کنٹرول قائم کر لیا۔ اس سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو جوڑنے والے اس اہم سمندری راستے پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہو گئی۔ اس کے بعد حوثیوں نے جنوب کی جانب پڑوسی صوبے لحج کی طرف پیش قدمی کی، جہاں پیچھے ہٹ چکی سرکاری فوج دوبارہ منظم ہو چکی تھی۔ اس سے یہ تصادم یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی راجدھانی عدن کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔

اس دوران حوثی فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حوثی فورسز نے تیز فوجی کارروائی کے دوران ایک جیل پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے 210 اراکین کو رہا کرا لیا، جنہیں سرکاری فوج نے قید کر رکھا تھا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے کہا کہ جمعرات کو موخا شہر پر قبضہ کرنے کے بعد حوثی لڑاکوں نے حکومت کے زیر انتظام جیل پر دھاوا بول دیا۔ عہدیدار کے مطابق پیچھے ہٹنے سے پہلے سرکاری فورسز نے تمام 210 قیدیوں کو ایک بڑے ہال میں بند کر دیا تھا۔ بعد میں حوثی لڑاکوں نے جیل میں داخل ہو کر انہیں آزاد کرا لیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔