دیگر ممالک

امریکہ-ایران امن مذاکرات کے درمیان قطر کے گیس ٹرمینل میں خوفناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، 18 لاپتہ

قطر کی سرکاری کمپنی ’قطر انرجی‘ کے مطابق ایکسپورٹ ٹرمینل میں کام کے دوران اتوار کی رات ’برزان‘ گیس سپلائی پلانٹ میں ایک بڑا دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>

تصویر (ویڈیو گریب)

 

قطر کے ’راس لفان‘ میں ایک اہم نیچرل گیس ایکسپورٹ ٹرمینل میں اتوار (21 جون) کی دیر شب تیز دھماکہ ہوا۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی حملے کے بعد یہاں ملازمین کی جانب سے ٹرمینل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ تیز دھماکے کی وجہ سے وہاں شدید آگ لگ گئی، جس میں تقریباً 54 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ 18 لوگ کئی گھنٹوں بعد تک لاپتہ تھے۔ فی الحال امدادی اور بچاؤ ٹیمیں جائے وقوعہ پر مسلسل کام کر رہی ہیں۔

Published: undefined

قطر کی سرکاری کمپنی ’قطر انرجی‘ کے مطابق ایکسپورٹ ٹرمینل میں کام کے دوران اتوار کی رات ’برزان‘ گیس سپلائی پلانٹ میں ایک بڑا دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی۔ دھماکے کے باعث ہونے والے نقصان کی اب تک کوئی پختہ معلومات سامنے نہیں آ پائی ہے۔ حالانکہ افسران نے پہلے کہا تھا کہ کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں، لیکن قطر کی وزارت داخلہ نے بعد میں حادثے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد جاری کی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ قطر دنیا کے بڑے قدرتی گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، ایسے میں یہاں کے صنعتی علاقے میں ہوئے اس بڑے دھماکے کا اثر عالمی توانائی کی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کے باعث قطر اپنے خریداروں کو گیس فراہم نہیں کر پا رہا تھا، جس کی وجہ سے قطر نے اپنی پیداوار بند کر دی تھی۔

Published: undefined

افسران کے مطابق مارچ میں ایک ایرانی میزائل ’راس لفان‘ سے ٹکرایا تھا، جس کے باعث وہاں شدید آگ لگ گئی تھی اور بڑا نقصان ہوا تھا۔ ایران کے مسلسل حملوں کی وجہ سے قطر نے وہاں پہلے ہی گیس کی پیداوار روک دی تھی۔ اب جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اور آبنائے ہرمز میں نرمی کے باعث مغربی ایشیا کے حالات بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوئے، تو قطر نے دوبارہ اپنے ایکسپورٹ ٹرمینل کو فعال کرنے پر کام شروع کیا تھا۔ اسی دوران یہ بڑا حادثہ پیش آ گیا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ قطر کے لیے ’برزان‘ پلانٹ انتہائی اہم ہے۔ اس کی گنجائش روزانہ تقریباً 1.4 ارب اسٹینڈرڈ کیوبک فیٹ گیس فروخت کرنے کی تھی۔ قطر اس گیس کا استعمال بنیادی طور پر اپنے ملک میں بجلی بنانے اور ریگستانی علاقوں میں پانی کو صاف کرنے والے ضروری پلانٹ چلانے کے لیے کرتا تھا۔ اس پلانٹ کا تقریباً پورا حصہ قطر کی ملکیت ہے، جبکہ ایک چھوٹا سا حصہ امریکی تیل کمپنی کے پاس ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined