دیگر ممالک

’لیو کو ایک عظیم پوپ بننے پر توجہ دینی چاہیے، سیاست داں بننے پر نہیں‘، ایران کے معاملے پر پوپ کے تبصرے سے ٹرمپ برہم

ٹرمپ نے کہا کہ ’’مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سوچے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا ٹھیک ہے۔ مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سوچے کہ امریکہ کا وینزویلا پر حملہ کرنا غلط تھا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>

امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس

 

پوپ لیو نے امریکی صدر ٹرمپ کی ایران سے متعلق جنگ پالیسی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اس جنگ کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ پوپ کے بیان کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ پوپ لیو جرائم کے معاملے میں کمزور ہیں اور خارجہ پالیسی کے لیے بہت برے ہیں۔ امریکی صدر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی ڈر کی بات کرتے ہیں، لیکن اس خوف کا ذکر نہیں کرتے جو کیتھولک چرچ اور عیسائی تنظیموں کو کووڈ کے دوران تھا۔ اس وقت جب پادریوں اور دیگر افراد کو چرچ کی دعائیہ تقاریب منعقد کرنے کے لیے گرفتار کیا جا رہا تھا، تب بھی جب وہ باہر نکل رہے تھے اور ایک دوسرے سے 10 یا 20 فٹ کے فاصلے پر تھے۔

Published: undefined

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ان کے بھائی لوئس، ان (پوپ) سے کہیں زیادہ پسند ہیں، کیونکہ لوئس مکمل طور پر ’ماگا‘ کے حامی ہیں۔ وہ بات سمجھتے ہیں، لیکن لیو نہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سوچے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا ٹھیک ہے۔ مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سوچے کہ امریکہ کا وینزویلا پر حملہ کرنا غلط تھا۔ ایک ایسا ملک جو امریکہ میں بڑی مقدار میں منشیات بھیج رہا تھا اور اس سے بھی برا یہ کہ اپنی جیلوں کا خالی کر کے قاتلوں، منشیات کے اسمگلروں اور مجرموں کو ہمارے ملک میں بھیج رہا تھا۔

Published: undefined

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو امریکہ کے صدر پر تنقید کرے، کیونکہ میں بالکل وہی کر رہا ہوں جس کے لیے مجھے بھاری اکثریت سے منتخب کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کی شرح ریکارڈ حد تک کم کرنا اور تاریخ کی بہترین اسٹاک مارکیٹ بنانا میری ذمہ داری ہے۔ لیو کو شکرگزار ہونا چاہیے، کیونکہ جیسا کہ سب جانتے ہیں ان کا پوپ بننا ایک حیران کن سرپرائز تھا۔ پوپ بننے کی کسی بھی فہرست میں ان کا نام نہیں تھا اور چرچ نے انہیں صرف اس لیے منتخب کیا کیونکہ وہ ایک امریکی تھے۔ انہیں لگتا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے نمٹنے کا یہی سب سے اچھا طریقہ ہوگا۔ اگر میں وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتا تو لیو ویٹیکن میں نہ ہوتے۔

Published: undefined

امریکی صدر نے کہا کہ بدقسمتی سے جرم اور جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں لیو کی کمزوری مجھے بالکل راس نہیں آتی اور نہ ہی یہ بات کہ وہ ڈیوڈ ایکسلروڈ جیسے اوباما کے حامیوں سے ملتے ہیں۔ یہ بائیں بازو کے نظریے کے ایک ’لوزر‘ (ناکام شخص) ہیں اور ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو چاہتے تھے کہ چرچ جانے والوں اور پادریوں کو گرفتار کیا جائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ لیو کو بطور پوپ اپنا رویہ درست کرنا چاہیے، اپنی سمجھ کا استعمال کرنا چاہیے، انتہا پسند بائیں بازو والوں کو خوش کرنا بند کرنا چاہیے اور ایک عظیم پوپ بننے پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ ایک سیاست داں بننے پر۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس سے انہیں بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ اس سے کیتھولک چرچ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

Published: undefined