دیگر ممالک

ایپسٹین فائلز کے منظر عام پر آنے کے بعد بل گیٹس اور ایلون مسک سمیت سرکردہ شخصیات سوالات کے گھیرے میں

ایپسٹین کا نیٹورک کافی بڑا تھا اور اس کا اثر ٹیک انڈسٹری کے کئی بڑے ناموں پر دکھائی دیتا ہے۔ ان میں بل گیٹس کے علاوہ ایلون مسک اور گوگل کے شریک بانی سرگئی برن جیسے نام بھی شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>جیفری ایپسٹین، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@epsteinsintern</p></div>

جیفری ایپسٹین، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @epsteinsintern

 

دنیا میں شاید ہی کوئی بڑا نام ایسا باقی ہو جس پر جیفری ایپسٹین سے منسلک باتوں کا اثر نہ پڑا ہو۔ امریکی حکومت نے حال ہی میں کچھ پرانے ای میلز اور دستاویز جاری کیے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایپسٹین کا تعلق کئی بڑے ٹیک لیڈرس اور بااثر شخصیات سے تھا۔ ان میں مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا نام بھی شامل ہیں۔ دستاویزات میں ایک روسی لڑکی اور ایس ٹی ڈی سے منسلک دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے یہ دستاویز کچھ روز قبل عوامی کیا۔ ان فائلوں کے سامنے آتے ہی چونکانے والی باتیں سامنے آئیں۔

Published: undefined

ایپسٹین کا نیٹورک کافی بڑا تھا اور اس کا اثر ٹیک انڈسٹری کے کئی بڑے ناموں پر دکھائی دیتا ہے۔ ان میں بل گیٹس کے علاوہ ایلون مسک اور گوگل کے شریک بانی سرگئی برن جیسے نام بھی شامل ہیں۔ زیادہ تر لوگ جن کے نام ان فائلوں میں آئے ہیں، اب اپنی صفائی دینے میں مصروف ہیں۔ ان دستاویزوں میں جو معلومات ہیں وہ نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ سنگین بھی ہیں۔ آئیے ذیل میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ٹیک کی دنیا کے بڑے ناموں پر کون کون سے الزام عائد ہوئے ہیں۔

Published: undefined

ایپسٹین کی ان نئی فائلوں کے منظر عام پر آنے کے بعد سب سے زیادہ بحث بل گیٹس کو لے کر ہو رہی ہے۔ 2013 میں ایپسٹین کے ذریعہ لکھے گئے نوٹس کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بل گیٹس کے غیر ازدواجی تعلقات تھے اور ان میں روسی خواتین شامل تھیں۔ ایک نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ایپسٹین نے بل گیٹس کے لیے دوائیوں کا انتظام کیا تھا، تاکہ روسی خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے بعد ہونے والے اثرات سے نمٹا جا سکے۔ حالانکہ یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ بل گیٹس کو حقیقت میں ایس ٹی ڈی (جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری) ہوئی تھی یا نہیں۔ ایپسٹین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گیٹس کو شادی شدہ خواتین سے ملوانے میں مدد کی تھی۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ ای میلز حقیقت میں بل گیٹس کو بھیجے گئے تھے یا صرف ڈرافٹ تھے۔

Published: undefined

ایپسٹین کی فائلوں کے مطابق یہ نوٹس اس وقت لکھے گئے تھے جب گیٹس فاؤنڈیشن اور جے پی مورگن چیز کے درمیان ایک ڈیل ناکام ہو گئی تھی، جس سے ایپسٹین کو مالی فائدہ ہو سکتا تھا۔ گیٹس فاؤنڈیشن نے ان الزامات کو مکمل طور سے غلط اور بے بنیاد بتایا ہے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ یہ باتیں بالکل جھوٹی ہیں اور ایپسٹین کی ناراضگی کا نتیجہ ہے، کیونکہ اس کا گیٹس کے ساتھ رشتہ آگے نہیں بڑھ پایا۔

Published: undefined

بل گیٹس اکیلے نہیں ہیں جن کا نام ایپسٹین فائلوں میں آیا ہے۔ گوگل کے شریک بانی سرگئی برن کا نام بھی دستاویزوں میں ہے۔ فائلوں کے مطابق برن نے ایپسٹین کے ایک ذاتی جزیرہ کا دورہ کیا تھا اور گھسلین میکسویل سے ملاقات کی تھی جو ایپسٹین کی قریبی مانی جاتی تھی۔ میکسویل نے 2003 میں برن کو ایک ای میل بھی بھیجا تھا، جس میں ڈنر کو عام اورآرام دہ قرار دیا گیا تھا۔

Published: undefined

پے پال کے شریک بانی پیٹر تھیل سے متعلق ای میلز بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک ای میل میں ایپسٹین نے لکھا تھا مزہ آیا، 3 ہفتے میں ملتے ہیں۔ حالانکہ پیٹر تھیل نے واضح طور پر کہا ہے کہ انہوں نے کبھی ایپسٹین کے جزیرہ کا دورہ نہیں کیا اور ان کا تعلق صرف سرمایہ کاری اور کام کی حد تک محدود تھا۔ اسی طرح لنکڈ اِن کے شریک بانی ریڈ ہاف مین کا نام بھی محکمہ انصاف کی دستاویزات میں ہیں۔ ان میں ان کے پاسپورٹ سے منسلک ایک معاملہ اور ایپسٹین کے ساتھ بات چیت کا ذکر ہے۔ ہاف مین نے بعد میں اپنے کردار کو لے کر معافی بھی مانگی تھی۔

Published: undefined

ایلون مسک نے پہلے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایپسٹین سے منسلک تمام دستاویز عوامی ہوں۔ لیکن ان فائلوں کے عوامی ہونے کے بعد یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایپسٹین کے جزیرہ پر جانے کو لے کر کچھ بات چیت ہوئی تھی۔ ایلون مسک نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ کبھی اس جزیرہ پر گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام الزامات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کی توجہ ان لوگوں کو انصاف دلانے پر ہے جو استحصال کا شکار ہوئے۔ ان تمام انکشافات کے بعد یہ معاملہ ایک بڑی بحث بن گیا ہے۔ اپسٹین سے منسلک یہ دستاویز ٹیک کی دنیا کے سب سے طاقتور لوگوں کو نئے سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined