
سیول: شمالی اور جنوبی کوریا ایک عرصہ تک جنگ کے دہانے پر کھڑے رہنے، دھمکیوں اور کشیدگی کے دور کے بعد آخر کار ایسا لمحہ آیا جو کچھ مہینے تک جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جی ہاں، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن سے ملاقات کے لئے جنوبی کوریا پہنچ چکے ہیں۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون پہلی مرتبہ سرحد پار کرکے جنوبی کوریا میں داخل ہوئے جہاں صدر مون جے این نے ان کا خیرمقدم کیا۔ سال 1953 میں کوریائی جنگ ہوئی اور یہ خط دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی شمالی کوریائی رہنما نے جنوبی کوریا کی سرزمین پر پیر رکھا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے مسکراتے ہوئے پنمون جوم میں ایک دوسرے کا خیرمقدم کیا، پنمون جوم کوریائی خطہ کا وہ واحد مقام ہے جہاں شمالی اور جنوبی کریا کے فوجی ہر وقت تعینات رہتے ہیں۔ اس کے بعد کم جونگ اون نے جنوبی کوریائی صدر کو شمالی کوریا کی سرحد میں داخل ہوکر کچھ فاصلے تک چلنے کا اشارہ کیا۔ دونوں لیڈران ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے شمالی کوریا کی سرحد میں تھوڑی دور تک گئے اور پھر واپس جنوبی کوریا کی سرحد میں لوٹ آئے۔
اور اس طرح ان دونوں ممالک کے اعلی رہنماؤں کے درمیان یہ تاریخی سربراہی مذاکرات کا آغاز ہوا۔ مذاکرات کے دوران شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
امریکہ نے امید ظاہر کی ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے درمیان ہونے والےچوٹی مذاکرات کے نتائج مثبت، امن اور خوشحالی حاصل کرنے کے ہدف میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کرکے اس بات کی امید ظاہر کی۔ بیان کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کے ساتھ مجوزہ چوٹی ملاقات سے پہلے جنوبی کوریا کے صدر سے ملاقات کریں گے۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ )
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 27 Apr 2018, 9:49 AM IST