
امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔ ساتھ ہی ٹرمپ پر معیشت، ووٹنگ کے حقوق اور ایران کے معاملات پر امریکیوں کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ٹرمپ کی تقریر کے ایک روز بعد کملا ہیرس نے بدھ (25 فروری) کو ’دی پرناس پرسپیکٹو‘ کے میزبان ایرون پرناس کے سب اسٹیک شو میں کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کی تقریر کو عام خاندانوں کی حقیقتوں سے بالکل الگ دیکھا۔
Published: undefined
کملا ہیرس نے ٹرمپ کے اس دعوے کو خارج کر دیا کہ ملک کی حالت مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بہت سے لوگ بڑھی ہوئی قیمتوں، مہنگی صحت کی دیکھ بھال اور مہنگی رہائش کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔‘‘ جنوبی ریاستوں کے اپنے حالیہ دوروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مسیسیپی میں ایک ایسی ماں سے ملنے کا قصہ سنایا جس کا 4 افراد کے لیے ہفتہ وار راشن بجٹ صرف 150 ڈالر تھا۔ ہیرس نے بتایا کہ کارٹ میں جو کچھ بھی تھا وہ اس کے بچوں کے لیے تھا۔ ماں نے ان سے کہا کہ وہ ’جو کچھ بھی ان کے بچے نہیں کھائیں گے وہ کھا لیں گی۔‘ وہ بوتل بند پانی لینے کے لیے پیدل چل کر گئی۔ وہ نل کا پانی نہیں پی سکتی کیونکہ پانی گدلا اور زہریلا ہے۔
Published: undefined
سابق نائب امریکی صدر نے مجوزہ اخراجات کی ترجیحات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے پوچھا کہ ’’جب آپ میڈیکیڈ میں ایک ٹریلین ڈالر کی کٹوتی کرتے ہیں تو کون شور مچا رہا ہے؟‘‘ ووٹنگ کے حقوق پر ہیرس نے ’سیو ایکٹ‘ کی سخت مخالفت کی، جسے ٹرمپ نے کانگریس سے منظور کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس بل کے تحت کے لوگوں کو ووٹنگ رجسٹریشن کے لیے پیدائشی سرٹیفکیٹ یا پاسپورٹ دکھانا لازمی ہوگا، جبکہ تقریباً 40 فیصد امریکیوں کے پاس یہ دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
Published: undefined
ہیرس نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اب وہ اس خطے میں امریکی فوجیوں کو بھیج رہے ہیں، جس سے یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ امریکی مرد اور خواتین کو جنگ میں تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کو ایسی کارروائی شروع کرنے کے لیے بھیجا جائے، جسے ٹالا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امریکی اتحادی صدر کے اس قدم سے متفق نہیں ہیں۔ اس طرح اتحادیوں کا کمزور ہونا قومی سلامتی کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined