دیگر ممالک

اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک حماس مکمل طور پر ہتھیار حوالے نہیں کر دیتی: نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک حماس اپنے ہتھیار مکمل طور پر حوالے نہیں کر دیتی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ سے فوج کے انخلاء کے لیے شرائط رکھی ہے۔ نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشن سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک حماس اپنے ہتھیار مکمل طور پر حوالے نہیں کر دیتی۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ حالیہ معاہدے سے بھی اختلاف کا اظہار کیا۔

نیتن یاہو کے تبصروں نے حماس کے تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر مزید شکوک پیدا کر دیے ہیں، جسے جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ اس معاہدے میں حماس سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے حوالے کرنے کا عمل شروع کرے، اور اسرائیل کو حملے بند کرنے اور غزہ کے تقریباً 60 فیصد حصے سے دستبردار ہونے کا کہا گیا جو اس وقت اس کے زیر کنٹرول ہے۔ یہ معاہدہ اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے پر مبنی تھا، جس میں بڑی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ ہوا اور غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنایا گیا، تاہم یہ عمل دیگر محاذوں پر تعطل کا شکار تھا۔

نیتن یاہو نے اب اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ تخفیف اسلحہ کو پہلے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج "اپنے، اپنے علاقے اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہے وہ کرتی رہیں گی۔" سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں نیتن یاہو نے کہا کہ "ٹرمپ انتظامیہ نے ہمیں ایک مسودہ بھیجا، ہم اس سے متفق نہیں تھے۔ یہ ہمارا مسودہ نہیں ہے۔ ہم نے اپنے تبصرے بھیجے ہیں۔ یہی ہمارا موقف ہے۔" واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ سے اپنی فوجیں نکال لے گا۔ انہوں نے اسے بورڈ آف پیس کی کامیابی قرار دیا۔

واضح رہے کہ تازہ ترین تنازعہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہوا تھا۔ جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے میں لگ بھگ 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جوابی کارروائیوں میں 73,377 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ کے مطابق مہلک حملے اب بھی جاری ہیں اور تعمیر نو کا کام روک دیا گیا ہے۔ علاقے کی وزارت صحت کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے غزہ میں کم از کم 1,252 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔