
غزہ پر اسرائیلی حملہ / فائل تصویر / Getty Images
غزہ پٹی میں اسرائیل نے ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے ایک جنازے پر حملہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 7 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور دیگر 22 افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ فی الحال اسرائیلی فوج کی جانب سے اس کارروائی پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ نصرت پناہ گزین کیمپ کے عودہ اسپتال نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ جمعہ کے روز ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے فلسطینی شخص کی آخری رسومات، یعنی جنازہ نکلنے کے دوران لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 1123 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ حماس کی زیر قیادت حکومت کے تحت کام کرنے والی وزارت صحت ہلاکتوں کا تفصیلی ریکارڈ رکھتی ہے۔ جسے عام طور پر اقوام متحدہ کی ایجنسیاں اور آزاد ماہرین قابل اعتبار سمجھتے ہیں۔ اس ریکارڈ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی، جس کے بعد حالات فکر انگیز ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں کی طرف سے فوج پر کیے گئے حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں فوجی کارروائی جاری ہے۔ اسرائیلی افسران کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے 5 اسرائیلی فوج کے جوانوں کی موت ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو ہوا تھا۔ جب حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا گیا تھا۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں تقریباً 1200 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ جبکہ تقریباً 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ وہیں غزہ کی وزارت صحت کا دعوی ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جس میں جنگ بندی کے بعد مارے گئے افراد بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے آزادانہ تحقیقات میں سنگین الزامات لگائے گئے ہیں کہ غزہ میں فلسطینی بچوں کو قصداً نشانہ بنایا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔