میناب میں تباہ گرلس اسکول، ویڈیو گریب
اسرائیل اور امریکہ کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں اور ایران کے جوابی حملوں نے تباہی کی ایک نئی داستان رقم کرنی شروع کر دی ہے۔ ایران کے میناب شہر میں ایک گرلس اسکول میزائل کی زد میں آنے سے تباہ ہو گیا ہے، جس میں کم از کم 40 طالبات ہلاک ہو گئی ہیں۔ پہلے 5 طالبات کی ہلاکت سے متعلق خبریں سامنے آئی تھیں، لیکن یہ تعداد بڑھ کر 36، اور اب 40 ہو چکی ہے۔ یہ تعداد مزید بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسکول کا ایک حصہ پوری طرح تباہ ہو گیا اور وہاں موجود لوگوں میں چیخ و پکار مچی ہوئی ہے۔
ایران نے بھی کئی خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملہ کیا ہے، جس نے جنگ کو شدت دے دی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یو اے ای میں ایک ہندوستانی شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس شخص کی جان ایران کے ذریعہ کیے گئے حملے میں گئی ہے۔ ایران نے سعودی عرب، قطر، اردن سمیت کئی ممالک میں ایسے مقامات پر حملے کیے ہیں جہاں امریکی فوج موجود ہے۔ فوری طور پر نقصان کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جا رہا ہے، لیکن حملوں کی نوعیت سے پتہ چلتا ہے کہ ہلاکتیں بڑی تعداد میں ہوئی ہوں گی۔
میناب میں ہوئیں اموات سے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ-اسرائیل کے آپریشن میں ہوئیں پہلی مصدقہ اموات تھیں۔ ایران کے پیراملٹری ریولوشنری گارڈ کا میناب میں ایک بیس ہے، غالباً اسی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس دوران ایران کی نیشنل سیکورٹی کونسل نے لوگوں کو راجدھانی تہران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ ملک کی سیکورٹی باڈی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مشکل حالات کی وجہ سے اگر آپ دوسرے شہروں میں اور دوسرے مقامات پر جا سکتے ہیں تو چلے جائیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکے امن برقرار رکھتے ہوئے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔‘‘
اس درمیان اسرائیلی میڈیا نے جانکاری دی ہے کہ تہران میں ایئر اسٹرائیک سے ایران ریولوشنری گارڈ کے کمانڈر محمد پاکپر کی موت ہو گئی ہے۔ 2025 میں پاکپر کو ریولوشنری گارڈ میں کمانڈر بنایا گیا تھا۔ حال ہی میں پاکپر نے ٹریگر پر فنگر کا سلوگن دیا تھا۔ اس کے ذریعہ پاکپر نے امریکہ اور اسرائیل کو دھمکی دی تھی۔ حالانکہ اس موت کے بارے میں ایران کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined