
آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان ’آبنائے ہرمز‘ کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ جنگ کے باعث پوری دنیا توانائی کے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اس درمیان ہفتہ (4 اپریل) کو ایران نے اپنے پڑوسی ملک عراق کو ’آبنائے ہرمز‘ سے گزرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ تہران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنگ میں عراق کے لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، ایسے میں ان کے اوپر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہوگی۔
Published: undefined
’الجزیرہ‘ نے ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ عراق کو ’آبنائے ہرمز‘ سے آمد و رفت کی اجازت برقرار رہے گی۔ آئی آر جی سی کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے عراقیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’جنگ میں ایران کے لوگوں کے ساتھ وہ مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی ابراہیم نے کہا کہ ’’ہمارے ساتھ بھائی چارہ نبھانے والا عراق آبنائے ہرمز پر عائد تمام طرح کی پابندیوں سے آزاد رہے گا۔ ان کے جہاز یہاں سے بغیر کسی روک ٹوک کے گزر سکیں گے۔‘‘
Published: undefined
ابراہیم ذوالفقاری نے امریکہ-اسرائیل کے ذریعہ ایران پر بزدلانہ حملہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایران کی قومی اور اسلامی خود مختاری پر وحشیانہ حملہ کیا گیا ہے، جس میں خواتین، بچوں اور عام لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسکول، ہاسپٹل اور اور عوامی خدمات کے اداروں پر بھی دشمن ممالک کے جانب سے حملے کیے گئے۔‘‘
Published: undefined
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ (4 اپریل) کو ایران کو پھر وارننگ دی ہے کہ اگر 48 گھنٹے کے اندر آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا گیا یا معاہدہ نہیں کیا گیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ایران کو معاہدے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پہلے ہی وقت دیا گیا تھا، لیکن اب صرف 48 گھنٹے بچے ہیں۔ اگر ڈیڈ لائن ختم ہوتی ہے تو ایران پر امریکہ قہر بن کر ٹوٹے گا۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined