
فائل تصویر آئی اے این ایس
ایران میں جاری مہنگائی مخالف مظاہروں نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق ملک میں جاری بدامنی کے دوران اب تک 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر ایران نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تو امریکہ اور اسرائیل کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Published: undefined
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے یعنی HRANA کے مطابق اب تک 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مزید برآں، 10,600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایران کے اندر اور باہر سرگرم کارکنوں کے نیٹ ورک کے ذریعہ جمع کیے گئے ہیں، حالانکہ ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
Published: undefined
ایرانی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کیا کہ کوئی بھی ’’غلط اندازہ‘‘ مہنگا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو اسرائیل اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اور بحری جہاز ایران کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔ قالیباف ایران کے پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہےہیں۔
Published: undefined
ایران میں مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو ہوا تھا۔ ابتدا میں لوگ مہنگائی اور بگڑتے ہوئے معاشی حالات کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے، لیکن یہ تحریک آہستہ آہستہ مذہبی قیادت کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی شکل اختیار کر گئی جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اقتدار میں ہے۔ ایرانی حکومت کا الزام ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔
Published: undefined
صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایرانی انتظامیہ نے اپنا کریک ڈاؤن تیز کردیا ہے۔ پولیس چیف احمد رضا رادان نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ "تشدد پیدا کرنے والوں" کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات درہم برہم ہیں اور سیکورٹی کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے۔
Published: undefined
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو امریکہ مداخلت کے لیے تیار ہے۔ اس کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس سے پورے مغربی ایشیا میں صورتحال بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined