ایران اور پاکستان کا قومی پرچم
امریکہ-اسرائیل سے جنگ کے بعد ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے مسلم ممالک سے متحد ہو کر ناٹو کے طرز پر ایک ’مشترکہ محاذ‘ بنانے کی اپیل کی ہے۔ منگل (23 جون) کو پاکستان دورے کے دوران انہوں نے یہ بیان دیا۔ مصر، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے پہلے سے ’اسلامک ناٹو‘ بنانے پر بات چیت چل رہی ہے، اب ایران کی جانب سے اس کے لیے لیے پہل کی گئی ہے۔ اس کا مقصد تنظیم کو ناٹو کی طرح ہی ’ایک ملک پر حملہ یعنی تمام ممالک پر حملہ‘ جیسا بنانا ہے۔
Published: undefined
’دی ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق پیزشکیان نے شہباز شریف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری او عاصم منیر کے ساتھ ملاقات اور تبادلۂ خیال کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو فریقی تعلقات پر غور و خوض کے ساتھ عالمی پیش رفت سمیت کئی مسائل پر بات چیت ہوئی ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور پاکستان مثبت ماحول کا فائدہ اٹھا کر ایک نئے دور کا آغاز کرنے اور دو فریقی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔ پیزشکیان کے مطابق مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں امن، استحکام، ترقی اور ممالک کی بہتری تبھی ممکن ہو سکتی ہے جب ان کے درمیان ایماندارانہ گفتگو، بین علاقائی تعاون اور باہمی احترام پر مبنی بات چیت اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔
Published: undefined
ایرانی صدر نے کہا کہ اسی سلسلے میں ہم ایک مشترکہ فہم قائم کرنے اور خطے کے ممالک کے لیے ایک نئے سیکورٹی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے خلاف متحد ہو کر لڑیں گے۔ ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایران بھی ’اسلامک ناٹو‘ میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ پیزشکیان کا پاکستان دورہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد ہوا، جس میں دونوں فریق 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدہ کرنے کے لیے ایک خاکے پر متفق ہوئے تھے۔ سوئٹزرلینڈ میں اتوار اور پیر کو ’لیک لیوسرن‘ سربراہی اجلاس میں ہونے والی اعلیٰ سطحی گفتگو اس ’اسلام آباد مفاہمت نامے‘ کے تحت ہوئی، جس پر جمعرات (18 جون) کو امریکہ اور ایران نے علاقائی سیکورٹی اور دیگر متنازعہ امور پر بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے دستخط کیے تھے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined