
تصویر ’ایکس‘ @washingtonpost
ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت عارضی جنگ بندی ہے، لیکن حالات میں کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کبھی بھی میزائل کا حملہ ہو جاتا ہے اور کبھی بھی دھماکوں کی گونج سنائی دیتی ہے، جس سے جنگ میں شدت کے اندیشے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس درمیان ایک ایسی چشم کشا رپورٹ سامنے آئی ہے، جس نے جنگ میں امریکہ کے شدید نقصانات کی طرف واضح اشارہ کیا ہے۔
Published: undefined
دراصل سیٹلائٹ تصویروں کے ایک نئے تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر اب تک کے سب سے خطرناک حملے کیے ہیں۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کی ابتدا سے اب تک کم از کم 228 امریکی فوجی ڈھانچے اور فیسیلٹی یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا انھیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ تعداد امریکی حکومت کے ذریعہ عوامی طور پر قبول کیے گئے نمبر سے کہیں زیادہ ہے۔
Published: undefined
دراصل ایران نے اپنے حملوں میں صرف عمارتوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ امریکہ کے ’ڈیجیٹل نروس سسٹم‘ یعنی مواصلات و سیکورٹی نظام پر براہ راست حملہ کیا ہے۔ سیٹلائٹ تصویروں کے تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ تباہ ہوئی چیزوں میں طیارہ و ہینگ، میزائل ڈیفنس سسٹم، ایندھن و رہائش اور مواصلاتی مرکز شامل ہیں۔ اس کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں:
Published: undefined
طیارہ و ہینگر— سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایندھن بھرنے والے ٹینکر اور ای-3 طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔
میزائل ڈیفنس سسٹم— کویت اور بحرین میں تعینات پیٹریٹ میزائل ڈیفنس سسٹم اور اردن و یو اے ای میں تھاڈ رڈار مشینوں کو ہدف بنایا گیا۔
ایندھن اور رہائش— کئی ٹھکانوں پر ایندھن ڈیپو، فوجیوں کے رہنے کے بیرک، جِم اور ڈائننگ ہال بھی ملبہ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
مواصلاتی مرکز— قطر کے العدید ایئر بیس پر اہم سیٹلائٹ مواصلاتی مراکز اور رڈار گنبدوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
Published: undefined
اسٹڈی میں سامنے آیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے نقصانات کو بہت کم کر کے بتایا تھا۔ جہاں حکومت نے فتح کے دعوے کیے تھے، وہیں زمینی حقیقت یہ ہے کہ بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور کویت کے 3 اہم اڈوں پر نصف سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروری سے شروع ہوئی اس جنگ میں اب تک کم از کم 7 امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
Published: undefined
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے قصداً ان ٹھکانوں کو منتخب کیا جو امریکہ کے لیے اسٹریٹجک طور پر سب سے مہنگے اور نایاب ہیں۔ انھوں نے براہ راست رڈار ایرے پر حملہ کرنے کی جگہ ان عمارتوں کو نشانہ بنایا جہاں ڈاٹا پروسیسنگ، کولنگ سسٹم اور بجلی پروڈکشن کی سہولتیں تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر رڈار محفوظ بھی رہے تو انھیں چلانے والا سسٹم ختم ہو گیا ہے۔ تجزیہ نگار ولیم گڈہینڈ کے مطابق ایران نے سافٹ ٹارگیٹ یعنی فوجیوں کی رہائشوں کو بھی نشانہ بنایا تھا کہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
Published: undefined
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پنٹاگن کے مطابق اس جنگ میں اب تک امریکہ کو تقریباً 25 بلین ڈالر کا خرچ اٹھانا پڑا ہے، لیکن خفیہ ذرائع کا ماننا ہے کہ حقیقی نقصان 50-40 بلین ڈالر (تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے) کے قریب ہو سکتا ہے۔ شدید تباہی کے سبب امریکہ کو کئی ٹھکانوں پر اسٹاف کم کرنا پڑا ہے۔ حالانکہ صدر ٹرمپ نے بات چیت کے ذریعہ سمجھوتہ کی کوشش میں کچھ دیگر مہموں کو روکنے کی بات کہی ہے، لیکن زمین پر کشیدگی کم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا