دیگر ممالک

جرمنی کے امریکہ اور اسرائیل کے حملے کو درست قرار دینے والے بیان کو ایران نے ’شرمناک‘ قرار دیا

اسماعیل بقائی نے ایک جرمن کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’نقصان اٹھانے سے انسان سمجھدار بنتا ہے‘ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ’ہنس گُک اِن ڈی لُفٹ‘ (لاپرواہ شخص) کو کچھ بھی نہیں سکھایا جا سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>اسماعیل بقائی، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

اسماعیل بقائی، تصویر/آئی اے این ایس

 

تہران نے جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفول کے اس بیان پر سخت اعتراض کیا ہے، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کا دفاع کیا تھا۔ جمعرات کو ایرانی وزارت خارجہ نے اسے ’شرمناک اور انتہائی گھٹیا‘ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جرمن وزیر خارجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے سابقہ بیان کی یاد دہانی کرائی۔

پوسٹ میں لکھا کہ ’’ایک وقت چانسلر مرز نے بڑے جوش و خروش سے کہا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کر کے ’گندا کام‘ کر رہا ہے۔ لیکن چند ماہ بعد وہی چانسلر اب اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس جنگ کی وجہ سے یورپی معیشت کو 100 ارب یورو کا نقصان ہو رہا ہے!‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’اب ان کے وزیر خارجہ بھی ایران پر ہوئے فوجی حملے کو درست ٹھہرانا ضروری محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اس قدر بے حسی اور گہری اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ نہ انہیں انسانی جانوں کے نقصان اور جنگی جرائم کا احساس ہے اور نہ ہی وہ اس معاشی نقصان کو سمجھ پا رہے ہیں جو یہ جنگ ان کے اپنے ملک اور پورے یورپ کو پہنچا رہی ہے۔‘‘ اسماعیل بقائی نے ایک جرمن کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’نقصان اٹھانے سے انسان سمجھدار بنتا ہے۔‘ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ’ہنس گُک اِن ڈی لُفٹ‘ (لاپرواہ شخص) کو کچھ بھی نہیں سکھایا جا سکتا۔

جرمنی کے وزیر خارجہ واڈیفول کا بدھ کو نشر ہونے والے ایک پوڈکاسٹ میں انٹرویو سامنے آیا۔ انٹرویو میں انہوں نے فوجی حملے کے متعلق کہا کہ ’’اس تصادم کی وجہ بظاہر ایران ہے، جو خود کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور کئی پڑوسی ممالک میں ایسے ملیشیا گروپوں کی حمایت کرتا ہے، جو ان ممالک کی خودمختاری کا احترام نہیں کرتے۔‘‘ ایران کے مطابق ان کا یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔