
آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی
ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکہ کی ناکہ بندی برقرار رکھے جانے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی، تب تک آبنائے ہرمز پوری طرح نہیں کھولا جائے گا۔ یعنی امریکی کارروائی کے خلاف ایران نے از سر نو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔
Published: undefined
ایران نے 17 اپریل کو آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا، ساتھ ہی کہا تھا کہ عارضی جنگ بندی کے دوران تجارتی جہازوں کے لیے ہرمز میں کسی طرح کی پابندی نہیں لگے گی۔ حالانکہ اس فیصلہ کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی ایک بار پھر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی تب تک جاری رہے گی، جب تک ایران جوہری پروگرام پر بڑا معاہدہ نہیں کرتا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو امریکہ پھر سے حملے کر سکتا ہے اور پھر ایران کے یورینیم ذخیرہ کو اپنے طریقے سے حاصل کرے گا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ایران نے گزشتہ روز جب ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا تو کچھ جہاز اس سمندری راستے سے گزرتے دیکھے گئے تھے، لیکن یہ صاف نہیں ہو سکا ہے کہ مجموعی طور پر کتنے جہاز اب تک نکل سکے۔ ایران کی اسلامی ریوولوشنری گارڈس (آئی آر جی سی) نے امریکہ پر سمندری ڈکیتی کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ناکہ بندی دراصل سمندر میں لوٹ جیسا ہے۔
Published: undefined
اس سے قبل ایران کی وزارت دفاع نے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز جنگ بندی کے دوران کچھ شرائط کے ساتھ کھلا ہے۔ وزارت کا کہنا تھا کہ فوجی جہازوں اور دشمن طاقتوں سے جڑے جہازوں کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر لبنان میں ایران حامی تنظیم حزب اللہ پر دباؤ بڑھتا ہے تو یہ فیصلہ بدلا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined