
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سترہ اکتوبر کو ایک نئے قانون کی اہم شقوں کو معطل کر دیا، جن کے تحت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا سکتے تھے۔ اس اقدام سے ہندوستان کو بڑی راحت ملی ہے۔ سترہ اکتوبر کو کیے گئے اس اعلان سے ہندوستانی ریفائنریز کو ماسکو سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کے لیے مزید لچک حاصل ہو گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا میں تنازعے کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کی وجہ سے وہاں سے ہونے والی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ کانگریس کی جانب سے پابندیوں کے تعین کے لیے مقرر کردہ اٹھارہ اکتوبر کی ڈیڈ لائن سے عین قبل سامنے آیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے 20 سے 22 اکتوبر تک ممبئی اور جام نگر کے دورے کے دوران ہونے والی بات چیت میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ اس دورے کے دوران وہ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کریں گے۔
روسی تیل کی دستیابی، جو اب پابندیوں کے کسی بھی خطرے سے آزاد ہے ، عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کی صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہے، جہاں مغربی ایشیا میں تنازعے کے دوبارہ شدت پکڑنے کی وجہ سے تیل کی قلت کا سامنا تھا۔ واشنگٹن کے فیصلے کا ایک ابتدائی اشارہ اس ہفتے اس وقت ملا جب امریکی صدر ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کے ایک معاہدے کا اعلان کیاجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی قیمتیں اب روس اور ہندوستانی جیسے ممالک کو توانائی کی تجارت کی پاداش میں سزا دینے کے مقابلے میں اہم ترجیح بن گئی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔