دیگر ممالک

میں نہیں ہوتا تو اسرائیل تباہ ہو چکا ہوتا، لبنان پر ذمہ داری سے کام لیں نیتن یاہو: ڈونالڈ ٹرمپ

ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی بہترین قرار دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’اب انہیں لبنان کے تناظر میں زیادہ ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ/بنجامن نیتن یاہو (فائل)</p></div>

ڈونالڈ ٹرمپ/بنجامن نیتن یاہو (فائل)

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ایویان میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس دوران اسرائیل، لبنان اور ایران سے متعلق معاملات پر سخت بیان دیا۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو اسرائیل تباہ ہو چکا ہوتا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان مختلف عالمی مسائل پر بات چیت ہوئی۔ جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ اور امیر نے دو طرفہ ملاقات کی۔ ٹرمپ نے مشکل وقت میں تحمل سے کام لینے پر قطر کی تعریف کی اور امریکہ کے لیے انہیں اہم بتایا۔

Published: undefined

اس دوران ٹرمپ نے اسرائیل، نیتن یاہو، ایران معاہدے اور لبنان سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے وجود اور اس کی سلامتی میں امریکہ کا کردار فیصلہ کن رہا ہے۔ ان کی قیادت کے بغیر اسرائیل کی پوزیشن کمزور ہو سکتی تھی، کیونکہ کوئی دوسرا صدر وہ اقدامات اٹھانے کو تیار نہیں تھا جو انہوں نے اٹھائے۔ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی بہترین قرار دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’اب انہیں لبنان کے تناظر میں زیادہ ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔‘‘

Published: undefined

لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ ملک پہلے اساتذہ، ڈاکٹروں اور وکلاء کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن اب اس کی حالت کافی خراب ہو چکی ہے۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازعہ بہت طویل عرصے سے چل رہا ہے اور اس میں بہت زیادہ لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے ہر بار پوری عمارت کو گرا دینا درست نہیں ہے، کیونکہ ان عمارتوں میں کئی بے قصور لوگ بھی رہتے ہیں جن کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Published: undefined

ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اسرائیل کو مشورہ دیا تھا کہ حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو دی جائے، اور ان کا ماننا ہے کہ شام شاید یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔ لبنان اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی رفتار پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ تنازعہ بہت طویل کھنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس تاخیر سے وسیع تر علاقائی معاہدے اور خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری بات چیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے مقابلے میں لبنان کا تنازعہ ایک چھوٹا معاملہ ہے۔

Published: undefined

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق لبنان سے متعلق معاملات پر ان کا اسرائیل کے ساتھ انتہائی مضبوط اور مثبت تعلق رہا ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو اسرائیل پہلے ہی تباہ ہو سکتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طویل تنازعہ کے منفی اثرات ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات پر پڑ سکتے ہیں۔

Published: undefined

ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے ڈونالڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ وہ معاہدہ ایران کو جوہری صلاحیت کی طرف لے جانے والا راستہ تھا، جبکہ ان کا (ٹرمپ کا) نقطہ نظر اسے روکنے والا ایک مضبوط ڈھانچہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس وقت اسرائیل کے وزیر اعظم نے واشنگٹن جا کر اوباما سے اس معاہدے کو روکنے کی اپیل کی تھی، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے بعد میں اس معاہدے کو ختم کر دیا کیونکہ ان کے مطابق وہ ایک بڑی غلطی تھی۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined