
ایران و امریکہ
تصویر آئی اے این ایس
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کو کسی بھی بڑی کارروائی سے باز رہنے کی وارننگ دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے ذمہ داروں کو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ ’مہر‘ نیوز ایجنسی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ عباس عراقچی نے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے یہ باتیں کہیں۔ اس دوران انہوں نے خطے میں ہونے والی نئی پیش رفت پر اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔
خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے عاصم منیر اور ہاکان فیدان سے کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی حملے کا سخت جواب دے گا۔ اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ امریکہ یا اسرائیل کی کسی بھی جارحانہ کارروائی، یا اس سلسلے میں کسی بھی علاقائی تعاون پر ایران کی مسلح افواج کی جانب سے سخت جواب دیا جائے گا۔ ہفتے کے روز بھی ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ پر جون کے وسط میں ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
وزارت کے مطابق امریکہ نے ایرانی ٹھکانوں پر مسلسل حملے کیے، ایرانی بندرگاہوں اور تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹیں ڈالیں اور اقتصادی دباؤ میں بھی اضافہ کیا۔ ایک بیان میں وزارت نے امریکہ کے غیر قانونی حملوں کی مخالفت کی اور اپنے ملک کی عزت، خودمختاری اور آزادی کے مضبوط دفاع کا عزم دوہرایا۔ واضح رہے کہ حال ہی میں دونوں ممالک نے حملے روکنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن چند ہی دن بعد دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حملے رکنے سے پہلے امریکہ نے ایرانی ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے تھے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے اور ان کا مقصد تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کم کرنا تھا۔
اس سے قبل عباس عراقچی نے ایران پر حملے کے سلسلے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون پر برطانیہ کو بھی خبردار کیا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حملہ آوروں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون، خواہ وہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے بہانے ہی کیوں نہ ہو، ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔