
نطنز جوہری تنصیب کی فائل تصویر، @AdameMedia
مغربی ایشیا میں جاری جنگ دن بہ دن شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ 21 مارچ کو امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران کے سب سے اہم نطنز نیوکلیئر سائٹ پر بڑا حملہ کیا گیا۔ ایران کی آفیشیل نیوز ایجنسی ’میزان‘ نے بتایا کہ امریکہ و اسرائیل نے مل کر یہاں زبردست بمباری کی ہے۔ حالانکہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملہ میں کسی بھی طرح کے ریڈیشن کا رساؤ نہیں ہوا ہے۔ اس حملہ سے متعلق اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے ایک حیرت انگیز دعویٰ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ نطنز نیوکلیئر سائٹ پر حملہ اسرائیل نے نہیں، بلکہ امریکہ نے کیا تھا۔ یہ بیان امریکہ و اسرائیل کے رشتوں میں شگاف پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ حالانکہ فی الحال امریکہ کی طرف سے اس معاملہ میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
Published: undefined
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ 21 مارچ کی صبح ایران کی نطنز نیوکلیئر سائٹ پر امریکہ نے حملہ کیا تھا، اسرائیل نے نہیں۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے اس خطہ میں کوئی حملہ نہیں کیا اور جنگ کے دوران امریکی سرگرمیوں پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔ یعنی نطنز نیوکلیئر سائٹ پر ہوئے حملہ سے اسرائیل نے خود کو پوری طرح سے الگ کر لیا ہے۔ حالانکہ آئی ڈی ایف نے یہ ضرور کہا ہے کہ اس نے ایران میں کئی اہم ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں، جن میں بیلسٹک میزائلیں ڈیولپ کرنے والے ایک کیمپس، میزائل بنانے میں استعمال ہونے والے سامان کے اسٹور وغیرہ شامل ہیں۔
Published: undefined
اس درمیان روسی وزارت خارجہ نے ایران کے نطنز نیوکلیئر سائٹ پر ہوئے حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزارت کے ترجمان ماریا زخارووا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ دوسری طرف بین الاقوامی نیوکلیئر توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا ہے کہ ایران نے ہفتہ کے روز نطنز نیوکلیئر سائٹ پر ہوئے حملہ کی جانکاری دی ہے۔ اس تعلق سے آئی اے ای اے صورت حال پر اپنی گہری نظر بنائے ہوئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے ملی نطنز نیوکلیئر سائٹ حملوں سے متعلق رپورٹ کی جانچ کر رہی ہے۔ آئی اے ای اے چیف رافیل گراسی نے اس معاملہ میں صبر سے کام لینے کی اپیل دہرائی ہے اور نیوکلیئر حادثہ کا جوکھم پیدا کرنے والی کسی بھی کارروائی کے خلاف تنبیہ دی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر سوشل میڈیا