
فلائی دبئی، تصویر سوشل میڈیا
فلائی دبئی کاک پٹ حملہ معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ عمانی شریک پائلٹ ہمام الحمامی کے فون ڈاٹا کی تفتیش جاری ہے۔ جانچ میں اس کے رابطوں اور ممکنہ سازشوں کی معلومات جمع کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی سیکورٹی حکام کو حال ہی میں ہمام الحمامی سے پوچھ تاچھ کے دوران کچھ اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ بات اب سامنے آ چکی ہے کہ حمامی نے بین گرین ایئرپورٹ پر طیارے کو گرانے کی کوشش کی تھی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کے روز پوچھ تاچھ کے دوران ہمام الحمامی نے اعتراف کیا کہ اس نے غزہ کا بدلہ لینے کے لیے ایسا کیا تھا۔ اس نے کہا کہ ’’میں نے غزہ کا بدلہ لینے کے لیے ایسا کیا۔ میں شہید ہونا چاہتا تھا۔‘‘
اب جانچ ایجنسیاں یہ پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ حمامی نے یہ سب کچھ اکیلے کیا تھا یا اس میں کوئی دوسرا شخص یا تنظیم بھی شامل تھی۔ شین بیٹ بھی اس پوچھ تاچھ میں شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات کے افسران نے فلائی دبئی کی پرواز کے کیبن کریو سے بھی پوچھ تاچھ کی ہے۔ تفتیش میں اس امکان کو مسترد کر دیا گیا کہ کریو نے حمامی کی کسی بھی طرح مدد کی تھی۔ فلائٹ اٹینڈنٹ نے تسلیم کیا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ تذبذب کا شکار تھے، لیکن انہوں نے اس سازش میں حمامی کی کوئی مدد نہیں کی ہے۔ اسرائیل کو یو اے ای کی جانچ رپورٹ مل گئی ہے۔ حالانکہ یو اے ای نے ایئر کریو سے پوچھ تاچھ میں اسرائیلی جانچ ٹیم کو شامل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔
شریک پائلٹ کے فون کی جانچ کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای کے افسران کے پاس حمامی کا فون ہے اور وہ اس میں موجود ڈاٹا کی جانچ کر رہے ہیں۔ فون سے اس کے رابطے، اسفار اور ممکنہ نیٹ ورک کے بارے میں سراغ ملنے کی امید ہے۔ اتوار کے روز ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں موساد کے ایک نمائندے نے تفتیش سے متعلق معلومات وزرا کے ساتھ شیئر کیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے بتایا کہ حمامی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اسرائیل کے مخالف ممالک کے مختصر دورے کیے تھے۔
ذرائع کے مطابق میٹنگ میں نمائندے نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ حالیہ برسوں میں اس دہشت گرد نے اسرائیل کے مخالف ممالک کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورے بہت ہی مختصر مدت کے لیے تھے۔ ہم اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ کیا ان دوروں کے دوران کسی شخص یا تنظیم نے اسے بھرتی کیا تھا۔ کابینہ کی میٹنگ کے دوران وزیر مری ریگیو نے بین الاقوامی پروازوں کی سیکورٹی کے حوالے سے وزارت کی ذمہ داریوں پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی پروازوں کی ذمہ داری وزارت ٹرانسپورٹ کے پاس ہے، لیکن انٹیلی جنس سے وابستہ خطرات پر نظر رکھنے کی صلاحیت وزارت کے پاس نہیں ہے۔ چارٹر پروازیں کے متعلق ریگیو نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ان پروازوں کا اختیار وزارت ٹرانسپورٹ کو سونپنے کی مخالفت کی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔