طلبا کی علامتی تصویر
دنیا بھر میں بہترین تعلیمی نظام کی علامت سمجھی جانے والی ہارورڈ یونیورسٹی گلوبل رینکنگ میں پچھڑ گئی ہے، جس سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی عالمی یونیورسٹی رینکنگ میں ہارورڈ یونیورسٹی اب نچلے درجے پر آ گئی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں اب چینی یونیورسٹیاں سرفہرست مقام پر پہنچ گئی ہیں۔ اس تبدیلی پر تعلیمی حلقوں میں خوب بحث ہو رہی ہے۔
Published: undefined
کئی دہائیوں تک ہارورڈ کا نام ہی تعلیم میں بہترین معیار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہ یونیورسٹی عالمی سطح پر تحقیق اور قیادت کا استعارہ رہی ہے۔ اب تحقیق پر مبنی عالمی رینکنگ میں چین کی یونیورسٹیاں مضبوط دعویدار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ’دی نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق کچھ تحقیق پر مرکوز رینکنگ میں ہارورڈ تیسرے نمبر تک پھسل گئی ہے، جبکہ چین کی زیجیانگ یونیورسٹی سرفہرست مقام پر پہنچ گئی ہے۔
Published: undefined
یہ نئی رینکنگ بنیادی طور پر شائع شدہ تحقیقی کام، سائنسی مضامین کی تعداد اور ان پر ملنے والے حوالہ جات (سائٹیشن/کریڈٹ) پر مبنی ہیں۔ ان شعبوں میں چینی یونیورسٹیوں نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے۔ خاص طور پر سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی جیسے میدانوں میں چین کی کارکردگی مسلسل بہتر ہوتی گئی ہے۔
Published: undefined
چینی یونیورسٹیوں کی یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے۔ گزشتہ 20 برسوں میں چین نے اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ حکومت نے یونیورسٹیوں کو واضح اہداف دیے ہیں، جن میں اعلیٰ معیار کی تحقیق کو فروغ دینا شامل ہے۔ پروفیسرز کی ترقی، فنڈنگ اور اداروں کی ساکھ کو براہ راست تحقیقی اشاعتوں سے جوڑ دیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، طبی سائنس اور مٹیریل سائنس جیسے شعبوں میں چین کے تحقیقی مقالے بڑی تعداد میں بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو رہے ہیں، جس کے باعث ان کی رینکنگ مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔
Published: undefined
اس درمیان ماہرین کا کہنا ہے کہ ہارورڈ کے معیار میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ آج بھی یہ یونیورسٹی تعلیم، جدت اور عالمی ساکھ کے اعتبار سے آگے ہے۔ تاہم رینکنگ کے موجودہ نظام میں تیزی سے ترقی کرنے والے اداروں کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔ جہاں ہارورڈ کی تحقیقی پیداوار مستحکم ہے، وہیں کئی چینی جامعات سالانہ 2 سے 3 گنا زیادہ سائنسی تحقیقی مقالے شائع کر رہی ہیں۔ ایسی صورت میں تعداد اور حوالہ جات کو اہمیت دینے والی رینکنگ میں چین کو برتری ملنا فطری ہے۔
Published: undefined
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی یونیورسٹیوں کو بعض پالیسی سطح کے مسائل کا سامنا ہے۔ تحقیق کی فنڈنگ سے متعلق غیر یقینی صورتحال، سخت امیگریشن قوانین اور بین الاقوامی تعاون پر مختلف پابندیاں تعلیمی ماحول کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں تحقیق کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، جس کا اثر رینکنگ میں نظر آنے لگتا ہے۔
Published: undefined
بہرحال، چینی یونیورسٹیوں کا رینکنگ میں اوپر آنا محض درجہ بندی کی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی تعلیمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ طلبہ اور محققین کے لیے اب عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے۔ پالیسی سازوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ طویل المدتی سرمایہ کاری اور واضح تعلیمی پالیسی عالمی اثرات کو بدل سکتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز