دیگر ممالک

برازیل کے صدارتی انتخاب میں موجودہ صدر لولا پر فلاویو بولسونارو نے حاصل کی سبقت

برازیل کے انتخابی نظام کے مطابق پہلے دور میں جیت حاصل کرنے کے لیے کسی امیدوار کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی اس ہندسے تک نہیں پہنچ سکا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا، تصویر آئی اے این ایس

 

برازیل میں صدارتی انتخاب اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ پہلے دور کی ووٹنگ کے نتائج میں ملک کی سیاسی تصویر تبدیل ہو چکی ہے۔ 98.81  فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو نے 47.24 ووٹ حاصل کر کے سبقت حاصل کر لی ہے۔ جبکہ موجودہ صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا 44.91 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ حالانکہ فلاویو بولسونارو مکمل طور پر انتخاب جیتنے کے لیے درکار 50 فیصد سے زیادہ ووٹوں کا جادوئی ہندسہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اب دونوں امیدواروں کے مابین 25 اکتوبر کو دوسرے مرحلے کا مقابلہ ہوگا۔

برازیل کے انتخابی نظام کے مطابق پہلے دور میں جیت حاصل کرنے کے لیے کسی امیدوار کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی اس ہندسے تک نہیں پہنچ سکا ہے، اس لیے اب دونوں دوبارہ مد مقابل ہوں گے۔ پہلا دور فلاویو بولسونارو کے لیے مضبوط قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ برازیل کے سابق صدر جایر بولسونارو کے بیٹے ہیں۔ سابق دائیں بازو کے لیڈر جایر بولسونارو گزشتہ انتخاب کے نتیجے کو فوجی بغاوت کے ذریعے تختہ پلٹنے کی ناکام کوشش کی سازش کے مجرم ٹھہرائے گئے تھے، اور گزشتہ 27 برسوں سے قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

انتخاب کے پہلے دور کا مقابلہ قریبی ہونے کی امید تھی، حالانہ کہ انتخابی تشہیر کے دوران اوپینین پول میں لولا نے معمولی سبقت حاصل کر رکھی تھی۔ اس کے باوجود فلاویو بولسونارو کی کارکردگی توقع سے بہتر رہی اور دوسرے مرحلے سے قبل برازیل کی سیاسی صورتحال کافی بدل گئی ہے۔ پہلے مرحلے کے نتائج بولسونارو کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ دوسرے مرحلے میں جگہ نہیں بنا پانے والے کئی امیدوار دائیں بازو کے خیمے سے تھے۔ اگر بولسونارو ان امیدواروں کے حامیوں کے ووٹ اپنے حق میں لانے میں کامیاب رہتے ہیں تو 25 اکتوبر کو ہونے والے مقابلے میں یہ اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

برازیل کے انتخاب پر پورے لاطینی امریکہ کی نظریں ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس خطے کے کئی ممالک میں بائیں بازو کے لیڈر صدر منتخب ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی لیڈران کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی سیاسی تعلقات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برازیل میں دوسرے دور کا انتخاب صرف ملک کے اندر ہی نہیں، بلکہ پورے خطے کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ 25 اکتوبر کو لولا اور بولسونارو کے مابین ہونے والا مقابلہ طے کرے گا کہ برازیل میں بائیں بازو کی قیادت جاری رہے گی یا لاطینی امریکہ کے کچھ حصوں میں دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان ملک کی طاقت بھی دائیں بازو کی طرف منتقل ہو جائے گی۔

خارجہ امور کے ماہر پرکاش کے رے کے مطابق برازیل فی الحال جنوبی امریکہ کا واحد ایسا اہم ملک ہے، جہاں ڈونالڈ ٹرمپ حمایت یافتہ صدر اقتدار میں نہیں ہیں، لیکن اب وہاں بھی دائیں بازو کی واپسی کا پورا امکان ہے۔ ایکس پر پوسٹ کرکے انہوں نے لکھا کہ سابق صدر بولسونارو کے بیٹے فلاویو بولسونارو پہلے مرحلے میں موجودہ صدر لولا سے آگے رہے ہیں۔ 25 اکتوبر دوسرے مرحلے میں فلاویو بولسونارو کی جیت تقریباً پکی ہے۔ بولسونارو کی سوتیلی والدہ مشیل اور ان کے ایک بھائی کارلوس بھی سینیٹ کا انتخاب جیتے ہیں۔ اگر فلاویو بولسونارو صدر بنتے ہیں تو اپنے والد کی سزا معاف کر سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔