دیگر ممالک

مشرق وسطیٰ کی جنگ میں مزید شدت کا اندیشہ، امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو پھر دی خطرناک حملے کی دھمکی

یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی کہ ایران اقتصادی طور پر کمزور ضرور ہے، لیکن فوجی اعتبار سے تیار ہے۔ اس کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ کے صدر&nbsp;ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)</p></div>

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)

 

مشرق وسطیٰ میں امن کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس کے برعکس حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تو ایک بار پھر ایران پر سب سے خطرناک اور بڑے حملے کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران سنجیدہ مذاکرہ نہیں کرتا تو امریکہ پوری طاقت کے ساتھ حملہ کر سکتا ہے۔ یہ دھمکی ایسے وقت میں آئی ہے جب جون میں ہونے والی جنگ بندی پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے۔ آبنائے ہرمز کو لے کر کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے اور دنیا کے سب سے اہم تیل کے راستے سے متعلق ایران کی دھمکیوں نے پوری عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ٹرمپ نے ’ایکسیوس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ایران پر ابھی تک بہت زیادہ دباؤ نہیں بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج مسلسل کئی راتوں سے ایرانی فوجی ٹھکانوں پر حملے کر رہی ہے۔ اسرائیل بھی تیار کھڑا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کچھ ہفتے قبل ایران اور امریکہ کی جنگ بندی نے حالات کو کافی بہتر بنا دیا تھا، لیکن اب ایک بار پھر پہلے جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تھے۔ اس کا نام ’آپریشن ایپک فیوری‘ رکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی بڑے رہنما مارے گئے۔ ایران نے جواب میں اسرائیل اور امریکی ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ لبنان میں حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے تیز کر دیے۔ ہزاروں افراد مارے گئے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور علاقائی عدم استحکام عروج پر پہنچ گیا۔

اپریل 2026 میں جنگ بندی ہوئی، لیکن یہ برقرار نہیں رہ سکی۔ جون میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ جہازوں پر حملے کیے۔ اگر یہاں آمد و رفت رک جاتی ہے تو ایشیا، یورپ اور امریکہ میں ایندھن کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ اسے اپنی ریڈ لائن سمجھتی ہے۔ توجہ طلب ہی بھی ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ’مکمل دباؤ‘ پر مبنی رہی ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی ایران کو ’پتھر کے دور‘ میں پہنچانے اور تہذیب کو ختم کرنے جیسی قیامت خیز دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران سنجیدہ نہیں ہوا تو مکمل اور بڑے پیمانے پر حملہ کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ دھمکی جزوی طور پر انتخابی اور اسٹریٹجک، دونوں نوعیت کی ہے۔ ٹرمپ ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے اور خطے میں حزب اللہ، حماس جیسے پراکسی گروپوں کی حمایت بند کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب وہ تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا اور خلیجی ممالک، یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو مطمئن رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم کئی ماہرین اسے بلف بھی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ مکمل پیمانے پر جنگ کا مطلب امریکہ کے لیے بھی بھاری نقصان ہوگا، یعنی فوجیوں کا جانی نقصان، تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ اور ممکنہ طور پر ایک نیا پناہ گزین بحران۔

یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی کہ ایران اقتصادی طور پر کمزور ضرور ہے، لیکن فوجی اعتبار سے تیار ہے۔ اس کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے، جو اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ پورے خطے کو غیر مستحکم کر دے گا۔ ایران کے پاس حزب اللہ، حوثی اور دیگر پراکسی فورسز کا ایک نیٹ ورک ہے۔ لبنان میں 2026 کی جنگ کے دوران حزب اللہ سرگرم رہا۔ تاہم جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے۔ ایران حکومت کی تبدیلی کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کرتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔