
برطانیہ و اسرائیل کے مابین اختلافات اور کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ یہ مسئلہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران تنقید سے آگے بڑھ کر اراکین پارلیمنٹ پر پابندی اور تجارت کو روکنے تک پہنچ گیا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ نے ویسٹ بینک قبضے والے علاقوں میں موجود اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور اب اسرائیل نے بھی برطانیہ کے خلاف کئی بڑے اقدامات کیے ہیں۔ اسرائیل نے برطانیہ کے 11 اراکین پارلیمنٹ کو ملک میں آنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 8 ستمبر کو مشرقی یروشلم میں موجود برطانوی قونصل خانہ کو بھی بند کر دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق برطانیہ کے کچھ دیگر شہریوں پر بھی اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اس پورے مسئلے پر بیان جاری کیا ہے۔ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ذریعہ دیے گئے رد عمل سے کافی مایوس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو کیا ہے، اس پر مجھے فخر ہے اور وہ صحیح ہے لیکن اسرائیل کی پابندیاں مایوس کرنے والی ہیں۔ اس درمیان فرانس اور کناڈا کے لیڈران نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بھی ایسے ہی قدم اٹھائیں گے، تاکہ ویسٹ بینک میں بستیوں کی توسیع اور بڑھتے تشدد کی وجہ سے آگے چل کر فلسطینی ریاست کی تشکیل ناممکن نہ ہو جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات سمیت 8 مسلم ممالک نے بھی ایک مشترکہ بیان جاری کر کے اسرائیل کی مذمت کی تھی۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون سار برطانیہ پر برہم ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کے فیصلے کی مذمت کی ہے، اور غزہ میں جنگ بندی پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے مرکز سے برطانیہ کے نمائندوں کو ہٹانے کی بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ گیدون سار نے کہا کہ ویسٹ بینک میں فلسطینی اتھارٹی کی سیکورٹی فورسز کو برطانیہ کے ذریعہ دی جا رہی تربیت کو بھی بند کر دیا جائے گا۔ وزیر خارجہ گیدون سار نے کہا کہ جن لوگوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے، وہ یہودی مخالف اور اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں شامل ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔