
علامتی تصویر
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا اثر پیر کو عالمی تیل بازار میں دیکھنے کو ملا۔ ایشیائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کی تیزی درج کی گئی۔ سرمایہ کاروں کو ڈر ہے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی اگست کی فیوچر پرائس 4.3 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 97.33 ڈالر فی بیرل پہنچ گئی۔ جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی جولائی کی فیوچر پرائس 4.4 فیصد بڑھ کر تقریباً 94.5 ڈالر فی بیرل تک کاروبار کرتی ہوئی نظر آئی۔
Published: undefined
واضح رہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی اس وقت آئی جب خبریں سامنے آئیں کہ ایران نے تل ابیب پر بیلسٹک میزائلوں کی بوچھار کر دی ہے۔ اس سے اپریل کی شروعات میں ہوئی جنگ بندی کو زبردست دھچکا لگا ہے۔ اس کے بعد مارکیٹ میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اسٹریٹجک طور پر اہم آبنائے ہرمز کے معمول کے آپریشنز کی بحالی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔ ایسے میں یہاں کسی بھی طرح کی رکاوٹ عالمی سپلائی اور قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
Published: undefined
سرمایہ کار اب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے حوالے سے پراعتماد نہیں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ایران کے حالیہ حملے کے بعد جوابی حملہ نہ کرنے کو کہا ہے۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے متعلق حتمی فیصلہ امریکہ کرے گا۔ حالانکہ بازار فی الحال اس سفارتی کوشش کو لے کر محتاط نظر آ رہا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اس درمیان تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ اوپیک پلس نے جولائی سے پیداواری کوٹے میں 1.88 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسلسل چوتھی بار ہے جب گروپ نے پیداوار بڑھانے کے متعلق قدم اٹھایا ہے۔ حالانکہ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے سپلائی سے متعلق خدشات کو پوری طرح دور نہیں کیا جا سکے گا۔ کئی رکن ممالک اپنی مقررہ پیداواری حد تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کے مضبوط روزگار کے اعداد و شمار نے بھی تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined