دیگر ممالک

خام تیل کی قیمت 90 ڈالر سے تجاوز، دنیا ایک بار پھر تشویش میں مبتلا

حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران ایران اور امریکہ کے بڑے حملوں نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ فریقین نے شپنگ ٹریفک کو نشانہ بنایا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

ایران اور امریکہ کے مابین جنگ جاری ہے۔ جس کے سبب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اس کے سیدھے اثرات بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں پر دیکھنے کو مل رہے ہیں، اور اس میں مستقل اضافہ جاری ہے۔ اس اضافہ کی وجہ سے دنیا ایک بار پھر تشویش میں مبتلا ہو گئی ہے اور مہنگائی کا اندیشہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ہفتہ کے پہلے کاروباری دن پیر کے روز خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ پیر کے روز انٹرنیشنل مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے، اور اس نے 90.79 ڈالر فی بیرل کا جمپ مارا۔ جون کے مہینے میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق رائے کی امید میں خام تیل کی قیمت گر کر 70 ڈالر کے آس پاس پہنچ گئی تھی، جبکہ یکم جولائی سے اب تک خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہو چکا ہے۔

’برینٹ کروڈ پرائز‘ یکم جولائی کو 71 ڈالر پر ٹرینڈ کر رہا تھا۔ خبر لکھے جانے تک 20 جولائی کو برینٹ کروڈ پرائز 90.79 ڈالر پر ہے، تو وہیں ’ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل پرائز‘ 85 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بات کی جائے ’مربن کروڈ آئل پرائز‘ کی تو یہ بھی تقریباً 82 ڈالر پر ٹرینڈ کر رہا تھا۔ خام تیل گزشتہ مارچ، اپریل مہینے میں 120 ڈالر فی بیرل پہنچ گیا تھا۔ اُس وقت امریکہ ایران کے درمیان جنگ عروج پر پہنچ گئی تھی۔ اب قیمت میں زبردست اضافے کی بھی اہم وجہ ایران-امریکہ کے مابین جنگ کا جاری رہنا ہے۔ در اصل امریکہ اور ایران نے مشرق وسطیٰ میں حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، اور آبنائے ہرمز میں شپمنٹ پھنس گئی ہیں، جو کہ دنیا میں تیل کی 20 فیصد ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔

حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران ایران اور امریکہ کے بڑے حملوں نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ فریقین نے شپنگ ٹریفک کو نشانہ بنایا ہے۔ جہاں ایران نے امریکی حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، تو وہیں امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے۔ یعنی پھر سے دنیا پر تیل اور گیس کا بحران پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ دنیا میں ایک بار پھر تیل اور گیس کا بحران پیدا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے، جیسا کہ 100 دنوں سے زیادہ عرصے تک امریکہ اور ایران کے درمیان چلی پہلے مرحلے کی جنگ کے دوران دیکھنے کو ملا تھا۔ دراصل آبنائے ہرمز سے آمد و رفت مکمل طور پر متاثر ہونے کی وجہ سے پاکستان، بنگلہ دیش، برطانیہ، جنوبی کوریا سمیت ہندوستان میں بھی تیل اور گیس کی قلت دیکھی گئی تھی۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ایل پی جی گیس سلینڈروں کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا تھا۔ خصوصاً تیل کی درآمد پر مکمل انحصار کرنے والے ممالک کے لیے خدشات ایک بار پھر بڑھ رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔