دیگر ممالک

’خون آلود بیگ اور جوتے‘، مذاکرات سے قبل ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے شیئر کی جذباتی تصاویر

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر میناب اسکول حملے میں جاں بحق بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’میرے اس سفر کے ساتھی‘‘۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;<a href="https://x.com/mb_ghalibaf">@mb_ghalibaf</a></p></div>

تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @mb_ghalibaf

 

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ہفتہ (11 اپریل) کو پاکستان میں اہم مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے لیے ایران کے سینئر رہنما اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، لیکن بات چیت شروع ہونے سے قبل ہی ایک جذباتی اور مضبوط پیغام سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف جب پاکستان کے لیے روانہ ہوئے تو وہ صرف ایک وفد کے سربراہ کے طور پر نہیں گئے، بلکہ میناب حملے کا درد بھی اپنے ساتھ لے کر گئے۔ ان کی پرواز کی ایک تصویر نے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی، جس میں وہ ان معصوم بچوں کی تصاویر کو دیکھتے ہوئے نظر آئے جو اس حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ تصاویر شیئر کیں۔ انہوں نے کیپشن میں لکھا کہ ’’میرے اس سفر کے ساتھی‘‘۔ انہوں نے بچوں کی تصاویر اور ان کے اسکول بیگ کو پرواز کے دوران سیٹوں پر رکھا تھا اور ساتھ ہی ان کے جوتے بھی رکھے ہوئے تھے۔ ان کے بیگ اور جوتوں پر لگے خون کے دھبے اس درد کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ہر سیٹ پر ایک پھول بھی رکھا گیا ہے۔ قالیباف معصوم بچوں کے چہروں اور ان کے اسکول بیگ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وہ خاموش کھڑے ہیں، لیکن ان کی یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ یہ ان 168 بچوں کی تصویریں ہیں جو 28 فروری کو اسرائیل اور امریکی فوجی حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ یہ حملہ اس قدر ہولناک تھا کہ اس کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی۔ جائے وقوعہ پر ہر طرف تباہی کا منظر تھا۔ خون آلود زمین، بکھرے ہوئے بستے اور جوتے، اور ہر طرف آہ و بکا سنائی دے رہی تھی۔

Published: undefined

مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچے ایرانی وفد میں سیکورٹی، سیاسی، فوجی، اقتصادی اور قانونی کمیٹیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، محمد باقر قالیباف کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کونسل میں ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے علی اکبر احمدیان بھی موجود ہیں۔ ان اعلیٰ رہنماؤں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ مذاکرات ایران کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined