دیگر ممالک

وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کو ملی بری خبر، سروے میں مقبولیت گھٹ کر 31 فیصد پہنچی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ’اپروول ریٹنگ‘ کم ہو کر 31  فیصد رہ گئی ہے، جو صدارتی دور میں ان کی مقبولیت کی سب سے نچلی سطح ہے۔ سروے میں 47  فیصد ووٹروں نے ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کی خواہش ظاہر کی۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ

 

حالیہ رائٹرز/ایپسوس کے ذریعے کرائے گئے سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ’اپروول ریٹنگ‘ کم ہو کر 31  فیصد رہ گئی ہے، جو صدارتی دور میں ان کی مقبولیت کی سب سے نچلی سطح ہے۔ سروے میں 47  فیصد ووٹروں نے ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کی خواہش ظاہر کی، جس سے کانگریس کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ امریکہ کے عوام پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو لے کر فکر مند ہیں اور 3 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات میں ان کی ریپبلکن پارٹی کو سبق سکھانے کے لیے تیار نظر آرہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پیر کے روز رائٹرز/ایپسوس کا سروے ختم ہوا۔ اس میں ڈونالڈ ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ میں کافی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ یہ سروے 4 دنوں تک جاری رہا۔ سروے کے مطابق تقریباً 31  فیصد امریکی ڈونالڈ ٹرمپ کے کام کاج کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 2 ہفتے پہلے کے مقابلے ایک فیصد کم ہیں۔ یہ ان کی دونوں مدت صدارت کی نچلی سطح بھی ہے۔ جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ اگر آج کانگریس کے انتخابات ہوتے ہیں، تو وہ کس پارٹی کو ووٹ دیں گے؟ جواب میں تقریباً 47  فیصد نے ڈیموکریٹس اور35  فیصد نے ریپبلکنز کو منتخب کیا۔ اس سروے نے ڈیموکریٹس کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔ اس سے امریکی ایوان نمائندگان اور امریکی سینیٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کی ڈیموکریٹس کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔

ریپبلکنز کے لیے کسی بھی ایوان میں کنٹرول کھونے کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹرمپ کی مدت صدارت کے آخری 2 برسوں میں ان کے ایجنڈے کو نافذ کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ یہ سروے اس بات کا اندازہ پیش کرتے ہیں کہ ووٹر کانگریس میں کس پارٹی کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ سروے عوام کی رائے تو ظاہر کرتے ہیں، لیکن انتخابی عمل کی باریکیوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ آن لائن کیے گئے اس سروے میں امریکہ کے 1679  بالغ افراد کی رائے حاصل کی گئی تھی۔ امریکہ میں 3  نومبر 2026  کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات میں امریکی ایوان نمائندگان کی تمام 435  نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ سینیٹ کی 35  نشستوں پر بھی انتخابات ہوں گے اور کئی ریاستوں میں گورنر کے انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔