
ویڈیو گریب
امریکی ارب پتی جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ’بلو آریجن‘ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب اس کا دیوہیکل ’نیو گلین‘ راکٹ لانچ پیڈ پر ٹیسٹنگ کے دوران اچانک دھماکہ کا شکار ہو گیا۔ یہ واقعہ جمعرات کی شب فلوریڈا کے کیپ کیناویریل میں واقع لانچ کمپلیکس-36 پر پیش آیا۔ راکٹ میں انجن فائرنگ ٹیسٹ جاری تھا کہ اچانک زور دار دھماکہ کے ساتھ آگ کا ایک بڑا گولہ آسمان میں بلند ہوتا دکھائی دیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اطراف کے کئی گھروں تک میں لرزش محسوس کی گئی۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے دھماکے کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں، جن میں آسمان نارنجی رنگ کے شعلوں سے روشن نظر آیا۔
Published: undefined
اس درمیان بلو آریجن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ٹیسٹ کے دوران تکنیکی خرابی پیش آئی تھی۔ کمپنی کے مطابق تمام ملازمین کی موجودگی کی تصدیق کر لی گئی ہے اور کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔ کمپنی نے کہا کہ ’’آج کے ہاٹ فائر ٹیسٹ کے دوران ہمیں ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے اور جلد مزید معلومات شیئر کی جائیں گی۔‘‘ مقامی ایمرجنسی حکام نے بھی واضح کیا کہ دھماکے کے بعد کسی زہریلے دھوئیں یا دیگر خطرناک صورتحال کا اندیشہ نہیں ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ بلیو آریجن کا نیو گلین راکٹ اس سے پہلے بھی تکنیکی خرابیوں کے سبب خبروں میں رہ چکا ہے۔ اپریل میں اس کی پرواز روک دی گئی تھی کیونکہ انجن میں خرابی کے باعث یہ ایک سیٹلائٹ کو غلط مدار میں پہنچا بیٹھا تھا۔ یہ نیو گلین راکٹ کی محض تیسری پرواز سمجھی جا رہی تھی۔ بلیو آریجن اس بھاری بھرکم راکٹ کو ناسا کے قمری مشنز کے لیے لینڈر لانچ کرنے میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔
Published: undefined
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جیف بیزوس کی کمپنی بلیو آریجن طویل عرصہ سے ایلون مسک کی ’اسپیس ایکس‘ کو چیلنج دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیو گلین راکٹ کو کمپنی کے مستقبل کے سب سے اہم اور پرعزم منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس راکٹ کا نام امریکہ کے پہلے خلا باز جان گلین کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے زمین کا چکر لگانے والے پہلے امریکی کے طور پر تاریخ رقم کی تھی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined