
آئی اے این ایس
سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب امریکہ نے آبدوز سے حملہ کر کے ایرانی بحری جہاز کو ڈبو دیا ہے، جس میں 87 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس حملے کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو کھلا چیلنچ پیش کیا ہے۔ عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ کو اپنے اس حملے کے لیے پچتھانا پڑے گا۔ یعنی انھوں نے ہلاک 87 فوجیوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ نے لکھا ہے کہ ’’امریکہ نے ایران کے ساحل سے 2000 میل دور سمندر میں ایک گناہ عظیم کیا ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے مہمان تقریبا 130 بحری اہلکاروں کو لے جا رہے جنگی جہاز ’دینا‘ پر بین الاقومی سمندری حدود میں بغیر کسی وارننگ کے حملہ کیا گیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میری بات یاد رکھنا، امریکہ کو اپنے اس کیے پر پچھتاوا ہوگا۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ بحر ہند میں سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز ’آئی آر ایس دینا‘ 4 مارچ کی صبح ڈوب گیا۔ ایران اور امریکہ-اسرائیل جنگ کے درمیان گہرے سمندری علاقے میں پیش آنے والا یہ پہلا بحری واقعہ مانا جا رہا ہے۔ اس سے تنازعہ کے ہندوستانی سمندری حدود تک پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی بحری جہاز سری لنکا کے گالے شہر سے تقریباً 40 ناٹیکل میل جنوب میں ڈوبا تھا۔ یہ جنگی جہاز حال ہی میں وشاکھا پٹنم میں منعقدہ کثیر فریقی ’میلان 2026‘ اور ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو‘ میں حصہ لینے کے بعد اپنے ملک واپس لوٹ رہا تھا۔
Published: undefined
سری لنکائی بحریہ اور وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق ایرانی بحری جہاز پر کیا گیا یہ حملہ آبدوز سے داغے گئے ٹارپیڈو کے ذریعہ کیا گیا۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 5:08 سے 5:30 بجے کے درمیان جہاز سے ایمرجنسی پیغام موصول ہوا، جس میں سمندر کے نیچے ہوئے بڑے دھماکے کی وجہ سے جہاز کو بھاری نقصان اور تیزی سے پانی داخل ہونے کی اطلاع دی گئی۔ کچھ ہی منٹوں میں جہاز رڈار سے غائب ہو گیا اور ڈوب گیا۔
Published: undefined
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے تصدیق کی کہ امریکی آبدوز سے داغے گئے ٹارپیڈو سے اس جنگی جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ گالے کے اسپتال افسران کے مطابق امدادی ٹیموں کے ذریعہ اب تک 87 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ 32 بحری اہلکاروں کو بچا کر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جبکہ جہاز پر سوار تقریباً 180 لوگوں میں سے کم و بیش 60 اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined