
وینزویلا میں زلزلہ کے بعد تباہی کا منظر، تصویر سوشل میڈیا
وینزویلا میں آئے تباہ کن زلزلہ کے تقریباً 30 گھنٹے بعد بھی راحت و بچاؤ کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ منہدم عمارتوں کے ملبوں تلے دبے لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو ٹیمیں مصروف عمل ہیں اور انہیں اب بھی امید ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی زندگی ان کی منتظر ہے۔ ملبوں کے نیچے سے ہر بار کسی شخص کے زندہ نکلنے کی خبر پورے ملک کے لیے امید کی ایک نئی شمع بن رہی ہے۔ موت اور تباہی کے درمیان انسانی حوصلے کی یہ داستانیں دنیا بھر کے لوگوں کو جذباتی کر رہی ہیں۔
Published: undefined
انہی واقعات میں سب سے زیادہ زیر بحث ایک چینی خاتون کی تصویر رہی، جسے امدادی کارکنوں نے عمارت کے کنکریٹ اور چھت کو کاٹ کر بحفاظت باہر نکالا۔ باہر آتے ہی اس نے امدادی کارکنوں کی طرف دیکھ کر کہا ’’آپ سب کا شکریہ!‘‘ چینی خاتون کا یہ مختصر سا جملہ اس المیہ کے درمیان امید کا سب سے بڑا پیغام بن گیا۔ سوشل میڈیا پر ایک اور تصویر بھی شیئر کی جا رہی ہے۔ اس میں 82 سالہ خاتون ایسکارلیٹ کے زندہ ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں اپیل کی جا رہی ہے کہ اگر کوئی انہیں پہچانتا ہو تو ان کے اہل خانہ تک یہ خبر پہنچائے۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری تصدیق کا ابھی انتظار ہے۔ تباہی کے تقریباً 30 گھنٹہ بعد اس ضعیفہ کا ملبہ سے نکلنا ایک عجوبہ ہی ہے۔
Published: undefined
ایک عجوبہ نوزائیدہ بچہ کا بھی ملبہ سے نکلنا ہے۔ کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً ایک سال کا معصوم بچہ ہاف پینٹ پہنے ہوئے ہے، جسے ریسکیو مہم چلا رہے لوگوں نے بہت احتیاط کے ساتھ باہر نکالا۔ دوسری جانب 12 سالہ سیموئل بریٹو کے ملبہ میں پھنسے ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ کو حرکت نہیں دے پا رہا ہے۔ تاہم اس کے ریسکیو کی سرکاری تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔
Published: undefined
دل کو چھو لینے والی ایک اور تصویر پنٹو سالیناس سے سامنے آئی، جہاں امدادی کارکنوں نے ملبہ تلے دبے ایک ننھے سے کتے کے بچے کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ یہ ننھی سی جان تباہی کے درمیان امید کی ایک بڑی مثال بن گئی۔ ایک نوجوان وینزویلائی شہری نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ مدد کی اپیل کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان کے کئی افراد اب بھی کاتیا لا مار علاقہ میں ملبہ تلے پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق بدھ کی شام 40 سیکنڈ کے اندر 7.2 اور 7.5 شدت کے 2 طاقتور زلزلوں نے ملک کے وسطی ساحلی علاقوں اور راجدھانی کراکس میں شدید تباہی مچا دی۔ کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں، بجلی اور مواصلاتی خدمات متاثر ہوئیں اور مسلسل آنے والے جھٹکوں نے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا۔ وزارت صحت کے مطابق جمعرات (25 جون) کی شام تک ہلاکتوں کی تعداد 235 تک پہنچ چکی تھی۔ ہلاکتوں کے بارے میں تازہ اپڈیٹ کا انتظار ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined