دیگر ممالک

آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد امریکہ کا ایران پر حملہ، تیل اور گیس کی سپلائی دوبارہ خطرے میں

ایران نے اتوار کے روز ’آبنائے ہرمز‘ کو اگلے حکم تک بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے صرف چند گھنٹے بعد امریکہ نے ایران کے کئی فوجی اڈوں اور اسٹریٹجک علاقوں پر فضائی حملے کر دیے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی</p></div>

آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی

 

مغربی ایشیا میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے بڑھ رہی کشیدگی اب فوجی جھڑپ میں تبدیل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ایران نے اتوار کے روز دنیا کی سب سے اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ’آبنائے ہرمز‘ کو اگلے حکم تک بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے صرف چند گھنٹے بعد امریکہ نے ایران کے کئی فوجی اڈوں اور اسٹریٹجک علاقوں پر تازہ فضائی حملے کر دیے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے ایک بار پھر بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک جہاز نے مقررہ سمندری راستے کی پابندی نہیں کی تھی اور اپنے نیویگیشن سسٹم بھی بند کر دیے تھے۔ بیان کے مطابق وارننگ دینے کے باوجود جہاز نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔ آئی آر جی سی کا دعویٰ ہے کہ کئی دیگر جہازوں نے بھی بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ایران نے واضح وارننگ جاری کر دی ہے کہ جب تک علاقے میں امریکہ کا عمل دخل ختم نہیں ہوتا، تب تک آبنائے ہرمز نہیں کھولا جائے گا۔ ایران نے مزید کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو بخشا نہیں جائے گا۔ پورے خطے میں امریکی اڈوں اور اس کے اتحادیوں کے فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کے فیصلے کے بعد امریکہ نے جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ امریکی فوج نے اتوار کے روز ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں، آئی آر جی سی سے وابستہ ٹھکانوں اور جنوبی خطے میں واقع اسٹریٹجک اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اس سے قبل بھی امریکہ نے ایران کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ایران نے اس ہفتے قطر اور سعودی عرب کے تین کاروباری ٹینکروں پر حملے کرائے ہیں۔ جس کے نتیجے میں جوابی کارروائی کی گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ اس ہفتے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز ’ایم/ وی جی ایف ایس گلیکسی‘ پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ سینٹ کام کے مطابق حملے کی وجہ سے جہاز میں شدید آگ لگ گئی، انجن روم کو کافی نقصان پہنچا اور عملے کا ایک رکن لاپتہ ہو گیا ہے۔ نقصان کی وجہ سے جہاز سفر مکمل کرنے کے لائق نہیں ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا مؤقف مزید سخت کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں، لیکن جون میں ہونے والی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی مفادات یا اس کی سلامتی پر حملہ کیا گیا تو امریکہ سخت فوجی کارروائی کرے گا۔ حال ہی میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکہ کی ’’1000 میزائلیں لاکڈ اینڈ لوڈڈ‘‘ ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ عمان، قطر اور پاکستان دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان پہنچے، جہاں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے حوالے سے عمانی حکام کے ساتھ بات چیت ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ عمان نے ایک ایسی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت جنوبی سمندری راہداری سے جہازوں کو آزادانہ طور پر گزرنے کی اجازت دی جائے، جبکہ ایران کے سمندری حدود میں واقع شمالی راستے سے گزرنے کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگی۔ ادھر ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اپنے پہلے عوامی پیغام میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کا بدلہ لینے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شہید رہنما کے خون کا بدلہ ہر حال میں لیا جائے گا۔‘‘ اس بیان نے پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔