دیگر ممالک

افغانستان: اچانک آنے والے سیلاب میں 20 افراد ہلاک، 100 سے زائد لاپتہ

یوسف حماد نے بتایا کہ ’’اچانک آنے والے سیلاب سے صوبہ نورستان میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ٹیمیں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکالنے، زخمیوں کو بچانے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

مشرقی افغانستان کے صوبہ نورستان میں پیر (20 جولائی) کو ہونے والی شدید بارش کے بعد اچانک آنے والے سیلاب میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تقریباً 80 لوگ زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 100 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان یوسف حماد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ اس سیلاب سے صوبے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں، جہاں ریسکیو آپریشن چلائی جا رہی ہے۔ ٹیمیں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکالنے، زخمیوں کو بچانے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

حماد نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات اور نقصان کے تخمینے کا کام پورا ہونے کے بعد جانی و مالی نقصان کے آفیشیل اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔ ایک الگ بیان میں افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی افسران کے مطابق نورستان کی راجدھانی پارون سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں سیلاب کی وجہ سے کئی مکانات اور بنیادی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل 9 جون کو افغانستان کے افسران نے بتایا تھا کہ گزشتہ 10 ہفتوں میں موسمی اچانک آنے والے سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کی وجہ سے ملک بھر میں کم از کم 301 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 385 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان حافظ محمد یوسف حماد کے مطابق ان آفات سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جس سے لوگوں کے روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے مزید بتایا کہ تقریباً 2000 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، جبکہ 7187 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ تقریباً 580 کلومیٹر سڑکیں بہہ گئی ہیں اور 30300 ایکڑ سے زائد زرعی زمین اور فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں یا برباد ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں 18812 خاندان ان آفات سے متاثر ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔