
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکہ میں زیر تعلیم سینکڑوں غیر ملکی طلباء کو ای میلز موصول ہوئی ہیں۔ ان میں انہیں اپنے طور پر ملک چھوڑنے کو کہا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے یہ ای میلز بھیجی ہیں۔ یہ میل ان غیر ملکی طلباء کو بھیجی گئی ہیں جن کے ایف1- ویزے (اسٹوڈنٹ ویزے) کیمپس ایکٹیوزم کی وجہ سے منسوخ ہو گئے تھے۔
Published: undefined
ای میل میں طلباء کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ درست امیگریشن اسٹیٹس کے بغیر امریکہ میں رہتے ہیں تو انہیں جرمانے، حراست اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ کارروائی صرف ان طلبہ تک محدود نہیں ہے جنہوں نے کیمپس ایکٹیوزم میں جسمانی طور پر حصہ لیا تھا بلکہ ایسے طلبہ جنہوں نے کسی بھی قسم کی 'قوم مخالف' پوسٹ کو شیئر کیا یا لائیک کیا انہیں بھی یہ میل موصول ہو رہی ہے۔
Published: undefined
امریکی وزیر خارجہ روبیو نے جمعرات کو گیانا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا، 'اس وقت ایسے طالب علموں کی تعداد 300 سے تھوڑی زیادہ ہو سکتی ہے۔‘روبیو کے دفتر نے حال ہی میں AI سے چلنے والی ایپ "کیچ اینڈ ریووک" یعنی ’پکڑو اور رد کرو‘بھی شروع کی ہے تاکہ حماس یا دیگر نامزد دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے والے طلباء کے ویزوں کا پتہ لگایا جا سکے اور اسے منسوخ کیا جا سکے۔ محکمہ خارجہ طلباء کی نئی درخواستوں کی بھی جانچ کر رہا ہے۔
Published: undefined
ای میل میں طلباء سے کہا گیا کہ وہ ایپ کا استعمال کرتے ہوئے خود کو قرنطینہ میں رکھیں۔ یہ ایپ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 10 مارچ کو لانچ کی گئی تھی، میل میں طلباء کو بتایا گیا تھا کہ ویزہ جاری ہونے کے بعد دیگر معلومات موصول ہوئیں، جس کے بعد آپ کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ای میل میں ویزا ختم ہونے کی تاریخ بھی لکھی ہوئی ہے۔ میل میں طالب علموں کو متنبہ کیا گیا کہ اگر وہ اس کے بعد بھی امریکا میں قیام کرتے رہے تو انہیں جرمانے، حراست اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
میل میں لکھا گیا ہے کہ اس سے آپ مستقبل کے امریکی ویزے کے لیے بھی نااہل ہو سکتے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ڈی پورٹ کیے گئے طلباء مستقبل میں امریکہ واپس جانا چاہتے ہیں تو انہیں نئے ویزا کے لیے درخواست دینا ہوگی اور پھر ان کی اہلیت کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا۔ طلباء کے ملک چھوڑنے کے پورے عمل کی بھی ای میل میں وضاحت کی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined