دیگر ممالک

کانگو میں ’ایبولا وائرس‘ کے سبب 80 افراد جاں بحق، ڈبلیو ایچ او نے ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی

ایبولا ایک بہت خطرناک وائرس سے ہونے والی بیماری ہے۔ یہ انفیکشن اگرچہ نایاب ہے، لیکن یہ کافی سنگین اور کئی معاملات میں جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او، تصویر آئی اے این ایس
ڈبلیو ایچ او، تصویر آئی اے این ایس  

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اتوار کو کانگو اور یوگانڈا میں پھیلے ایبولا کے قہر کو انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ حالانکہ ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ ’بنڈی بوگیو‘ وائرس سے پھیلا یہ انفیکشن وبائی مرض قرار دیے جانے کے معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی کے مطابق ہفتہ (16 مئی) تک کانگو کے صوبے ’اتوری‘ میں کم از کم 3 ہیلتھ زونز (بُنیا، روامپارا اور مونگبوالو) میں 80 مشتبہ اموات، لیب سے تصدیق شدہ 8 کیسز اور 246 مشتبہ معاملات سامنے آئے ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ ایبولا ایک بہت خطرناک وائرس سے ہونے والی بیماری ہے۔ یہ انفیکشن اگرچہ نایاب ہے، لیکن یہ کافی سنگین اور کئی معاملات میں جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے جسمانی سیال مادوں جیسے خون، الٹی، پسینے یا منی کے رابطے میں آنے سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے۔ اس کا کوئی یقینی علاج ابھی تک موجود نہیں ہے، لیکن ویکسین دستیاب ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ کانگو سے سفر کرنے والے 2 افراد میں 15 اور 16 مئی 2026 کو، یوگانڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ایک دوسرے سے کوئی واضح تعلق نہ ہونے کے باوجود، لیبارٹری سے تصدیق شدہ 2 کیسز درج کیے گئے ہیں۔ ایٹوری کے کئی ہیلتھ زونز میں بنڈی بوگیو وائرس کی بیماری (بی وی ڈی) کی علامات سے اموات کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقے سے وائرل ہیمرجک بخار کی علامات کے باعث 4 ہیلتھ ورکرز کی موت کی اطلاع بھی ملی ہے۔

Published: undefined

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز (آئی ایچ آر) کی دفعات کے تحت، جلد ہی ایک ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس طلب کریں گے۔ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوآرڈینیشن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، تاکہ اس وباء کی شدت اور پھیلاؤ کو سمجھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی نگرانی اور روک تھام کی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined