خبریں

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باوجود کیوں اوندھے منہ گرا سونا؟ مورگن اسٹینلے نے کھولے گراوٹ کے راز

معروف مالیاتی ادارے ’مورگن اسٹینلے‘ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سونے کی قیمت میں گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں سونے کو سرمایہ کاری کا سب سے محفوظ متبادل مانا جاتا ہے۔ اسی یقین کے باعث بحران کے وقت سونے کی مانگ اور قیمتیں دونوں آسمان چھونے لگتی ہیں۔ ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ اس الٹی چال نے عام خریداروں سے لے کر بڑے سرمایہ کاروں تک کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ معروف مالیاتی ادارے ’مورگن اسٹینلے‘ نے اس پہیلی کو سلجھاتے ہوئے اس کے پیچھے کی اصل وجوہات بتائی ہیں۔

Published: undefined

اس پورے واقعہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک ماہ پیچھے جانا ہوگا۔ 28 فروری کو جب ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان کشیدگی جنگ میں تبدیلی ہوئی تب کموڈٹی مارکیٹ بند تھی۔ ویک اینڈ کے بعد 2 مارچ کو جب ایم سی ایکس کھلا تو امید کے مطابق سونے میں بھاری اچھال دیکھا گیا۔ گولڈ فیوچرس 8505 روپے کی زبردست چھلانگ لگاتے ہوئے 167090 روپے فی 10 گرام کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ اس وقت لگا کہ سونا اب نئے آسمان چھوئے گا۔ لیکن یہ تیزی زیادہ دن تک نہیں ٹک سکی۔ ایک ماہ کے اندر بازار کا مزاج پوری طرح بدل گیا۔ 2 اپریل آتے آتے ایم سی ایکس پر گولڈ فیوچرس 2.62 فیصد ٹوٹ کر 149680 روپے فی 10 گرام پر آ گرا۔ اس چھوٹی سی مدت میں سونے کی قیمتوں میں 10 فیصدی سے زیادہ کی بھاری گراوٹ آ چکی ہے، جو سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری مان کر اس میں پیسہ لگا رہے تھے انہیں بڑا جھٹکا لگا۔

Published: undefined

مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سونے کی اس گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے۔ مشرق وسطی میں کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ جب بھی ڈالر میں مضبوطی آتی ہے تو دیگر کرنسیوں (جیسے ہندوستانی روپیہ) کا استعمال کرنے والے خریداروں کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا خریدنا کافی مہنگا سودا بن جاتا ہے۔ لاگت بڑھنے کی وجہ سے سونے کی مانگ میں کمی آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی قیمت پر بھاری دباؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

Published: undefined

سونے کی کمزور کی پیچھے ایک اور بڑی معاشی وجہ چھپی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں آگ لگ گئی ہے۔ تیل مہنگا ہونے کا براہ راست مطلب ہے پوری دنیا میں مہنگائی بڑھنے کا خطرہ۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو امریکہ کے فیڈرل ریزرو سمیت دنیا بھر کے مرکزی بینک سود کی شرح میں تخفیف کرنے سے بچتے ہیں۔ ماہرین کا تو یہاں تک خیال ہے کہ مہنگائی بڑھنے پر سود کی شرح میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

تیسری اور سب سے اہم وجہ مارکیٹ میں نقدی یعنی ’لیکویڈیٹی‘ کا بحران ہے۔ حال ہی میں شیئر بازار میں آئی بڑی گراوٹ نے سرمایہ کاروں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ شیئر میں نقصان بڑھنے پر بروکرس اپنے سرمایہ کاروں سے ’مارجن‘ (اضافی فنڈ) بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس دباؤ کی وجہ سے نقدی کا فوری انتظام کرنے کے لیے سرمایہ کار اپنا سب سے بھروسے مند اثاثہ یعنی سونا فروخت کر رہے ہیں۔ عام طور پر جب شیئر گرتا ہے تو لوگ شیئرز سے پسے نکال کر سونے میں لگاتے ہیں۔ لیکن اس بار ’مارجن کال‘ کے دباؤ نے حالات بالکل پلٹ دیے ہیں۔ مارکیٹ میں نقدی برقرار رکھنے کی مجبوری میں ہونے والی سونے کی اس زبردست فروخت نے شیئرز کے ساتھ ساتھ سونے کی قیمتوں کو بھی نیچے گرا دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined